Tahir Shahzad Product Manager & Community Builder
Book a Free 30-Min Review

شارٹ کٹ کلچر اور پاکستانی نوجوان: کٹہرے میں ہم خود

مقدمہ خارج ہو گیا، مگر عدالت جاتے جاتے تین حکم دے گئی: نوجوان، تعلیمی اداروں اور ریاست کے نام۔

Tahir Shahzad By Tahir Shahzad 2 hours ago 12 min read
شارٹ کٹ کلچر اور پاکستانی نوجوان: کٹہرے میں ہم خود

جب بھی پاکستانی نوجوانوں کی بے سمتی اور شارٹ کٹ کلچر پر بات ہوتی ہے تو دو فریق سامنے آ جاتے ہیں۔ ایک کہتا ہے قصور نظام کا ہے، دوسرا کہتا ہے قصور خود نوجوان کا ہے۔ میں نے سوچا دونوں کو ایک ہی عدالت میں کھڑا کر کے سنا جائے۔

یہ عدالت فرضی ہے اور اس کی سکرین پر چلنے والی خبریں بھی علامتی ہیں، کسی خاص واقعے کی رپورٹ نہیں۔ مگر آپ نے ایسی خبریں ضرور دیکھی ہوں گی۔

عدالت کی سکرین پر خبریں

نیوز اینکر: “ناظرین! آج کی اہم خبریں۔ ایک مشہور ٹک ٹاکر کی شادی میں بے قابو ہجوم کے باعث بھگدڑ مچ گئی اور درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔ نوجوان صرف ایک جھلک دیکھنے اور ویڈیو بنانے کے جنون میں اپنی جان خطرے میں ڈال بیٹھے۔”

نیوز اینکر: “ایک اور افسوسناک خبر۔ غیر ملکی سکالرشپ اور آن لائن کورسز کا جھانسہ دینے والے نوسربازوں نے نوجوانوں کی جمع پونجی لوٹ لی۔ شارٹ کٹ کے چکر میں کئی گھرانوں کے خواب ٹوٹ گئے۔”

نیوز اینکر: “اور اب تعلیمی اداروں پر ایک نظر۔ لائبریریاں اور ریسرچ سینٹرز ویران ہیں، جبکہ گیمنگ زونز اور انفلوئنسرز کے میٹ اپس پر نوجوانوں کا سمندر امڈ آیا ہے۔”

(سکرین بند ہوتی ہے۔ کمرہِ عدالت میں خاموشی چھا جاتی ہے۔ جج صاحب گہری سوچ میں ہیں۔ ایک طرف عوام کا وکیل کھڑا ہے، دوسری طرف حقیقت کا وکیل۔)

بحث

عوام کا وکیل: (جذباتی انداز میں) “مائی لارڈ! آپ نے یہ خبریں دیکھیں؟ یہ ہے اس ملک کے عوام کا حال۔ آج میں ایک مظلوم قوم کا مقدمہ لے کر آیا ہوں۔ مواقع نہیں، روزگار نہیں، اور نظام کی ناانصافیوں نے انہیں اس قدر مایوس کر دیا ہے کہ یہ ایسی تفریحوں میں پناہ ڈھونڈنے پر مجبور ہیں۔ یہ نظام کی ناکامی ہے کہ ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں بچا!”

حقیقت کا وکیل: (پرسکون انداز میں اٹھتے ہوئے) “اعتراض مائی لارڈ! یہ آدھا سچ ہے، اور آدھا سچ مکمل جھوٹ سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ یہ قوم آج جن حالات کا رونا رو رہی ہے، ان کی ذمہ داری میں اس کا اپنا بھی حصہ ہے۔ یہ اپنا ملبہ دوسروں پر ڈالتی ہے، لیکن اپنے گریبان میں جھانکنے کو تیار نہیں۔”

جج: “وضاحت کریں وکیلِ مخالف۔ آپ ان حالات کا ذمہ دار عوام کو کیسے ٹھہرا سکتے ہیں؟”

حقیقت کا وکیل: “مائی لارڈ! جس ہجوم نے ٹک ٹاکر کی شادی میں بھگدڑ مچائی، کیا ریاست نے اسے وہاں جانے پر مجبور کیا تھا؟ بالکل نہیں۔ یہ اس کی اپنی ترجیحات ہیں۔ جس قوم کو اپنا پیسہ، توانائی اور وقت تعلیم اور تحقیق پر لگانا چاہیے تھا، اس نے یہ سب آن لائن گیمز اور ٹک ٹاکرز کو دے دیا۔ ان کے پاس کتاب خریدنے کے پیسے نہیں، لیکن سکرین پر ناچنے والوں کو ورچوئل تحفے بھیجنے اور مہنگے انٹرنیٹ پیکج کا بجٹ موجود ہے۔”

عوام کا وکیل: (تیزی سے مداخلت کرتے ہوئے) “مائی لارڈ! لیکن نوجوانوں کی رہنمائی کے لیے کوئی روڈ میپ بھی تو نہیں۔ جب نظام انہیں مایوس کرے گا تو وہ کیا کریں گے؟”

حقیقت کا وکیل: (طنزیہ لہجے میں) “روڈ میپ؟ مائی لارڈ! جب انہیں واقعی روڈ میپ اور مستند تعلیم کی ضرورت تھی، تو انہوں نے ان کورس بیچنے والے مداریوں کو اپنا گرو مان لیا جو کیمرے کے سامنے بیٹھ کر یونیورسٹیوں، ڈگریوں اور اساتذہ کا مذاق اڑاتے ہیں۔ پہلے ذہنوں میں یہ بات بٹھائی کہ تعلیم بے کار ہے، پھر کروڑ پتی بننے کے کورس بیچ دیے۔”

“اس قوم نے علم اور ہنر کے بجائے شارٹ کٹ خریدے۔ پسینہ بہانے اور گر کر سنبھلنے سے چڑ ہے، راتوں رات امیر ہونے کے خواب پسند ہیں۔ اور جب یہی شارٹ کٹ اندھی کھائی میں گرا دیتا ہے تو مظلومیت کا رونا شروع ہو جاتا ہے!”

عوام کا وکیل: (دھیمی آواز میں، نظریں جھکائے ہوئے) “مائی لارڈ، ریاست کا نظام بھی تو مکمل نہیں۔ کہیں نہ کہیں تو خامی ہے…”

(جج ہاتھ اٹھا کر انہیں خاموش کرواتے ہیں، چشمہ اتارتے ہیں، گہری سانس لیتے ہیں اور فیصلہ سناتے ہیں۔)

فیصلہ

“عدالت نے دونوں اطراف کے دلائل سنے۔ عوام کے وکیل کا شکوہ اپنی جگہ ہے، لیکن پیش کی گئی تلخ حقیقتوں نے آج اس عدالت کی آنکھیں کھول دی ہیں۔”

“آج اس کٹہرے میں کوئی اور نہیں، ہم خود کھڑے ہیں۔ جو قومیں فالوورز بڑھانے اور گیمز کے لیول پار کرنے پر فخر کریں، وہ لیبارٹریوں اور لائبریریوں میں کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ ہم نے اپنے ہیرو بدل دیے ہیں۔ جس معاشرے میں ایک استاد اور محقق کی تنخواہ سے زیادہ ایک مسخرے کی چند سیکنڈ کی ویڈیو کی کمائی ہو، اور لوگ اس پر تالیاں بجائیں، وہ معاشرہ ترقی نہیں کرتا۔”

“آپ شارٹ کٹ بیچنے والوں کی باتوں میں اس لیے آئے کہ آپ خود محنت سے بھاگنا چاہتے تھے۔ آپ نے علم کی بے حرمتی کی، مشقت کو گالی بنا دیا اور راتوں رات کامیابی کو اپنا خدا مان لیا۔ یاد رکھیں، جو قوم اپنی بنیادیں خود کھوکھلی کرے، اسے گرانے کے لیے کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں ہوتی۔”

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

“جب تک یہ قوم شارٹ کٹ کی لت چھوڑ کر محنت، علم، تحقیق اور صبر کا راستہ نہیں اپناتی، تب تک اس کا شکوہ محض ایک خود فریبی ہے۔ کٹہرے میں کھڑے اصل مجرم ہم خود ہیں۔”

“مقدمہ خارج کیا جاتا ہے!“

(ہتھوڑا میز پر پڑتا ہے: ٹھک، ٹھک، ٹھک۔ کمرہ ایک ایسی خاموشی میں ڈوب جاتا ہے جس میں صرف ضمیر کے جاگنے کی آواز آ رہی ہے۔)

عدالت کے تین حکم

لوگ اٹھنے ہی والے تھے کہ جج صاحب نے ہاتھ کے اشارے سے روک لیا۔ “مقدمہ خارج ہوا ہے، ریاست بری نہیں ہوئی۔ نوسرباز کا جرم بھی اس کا اپنا ہے، جس کی جیب کٹی اس کا نہیں۔ اور جاتے ہوئے یہ مت کہیے گا کہ عدالت نے صرف ڈانٹا، راستہ نہیں دکھایا۔ تین حکم سن لیجیے۔”

میں خود سرکاری سکولوں میں فرش پر بیٹھ کر پڑھا ہوں، اور رٹے کے اس نظام پر پہلے بھی لکھ چکا ہوں۔ اس لیے نظام کی خامیوں سے انکار نہیں۔ مگر حکم کی ترتیب اہم ہے: پہلا حکم اس کے نام ہے جو آج ہی عمل کر سکتا ہے۔

پہلا حکم: نوجوان کے نام

نظام کی تبدیلی سست عمل ہے۔ جو طالب علم اس کے انتظار میں بیٹھا رہا، وہ اپنا وقت اور مستقبل دونوں گنوا دے گا۔ پائیدار کیریئر راتوں رات امیر ہونے کے خواب پر نہیں، خود آگاہی، مسلسل محنت اور واضح سمت پر کھڑا ہوتا ہے۔

پہلے سمت، پھر رفتار

اپنا ایکی گائی تلاش کریں۔ آپ کو کیا پسند ہے، آپ کس چیز میں ماہر ہو سکتے ہیں، اور مارکیٹ کو کس چیز کی ضرورت ہے؟ جہاں یہ تینوں ملیں، وہاں سے راستہ نکلتا ہے۔ اندھا دھند ٹرینڈ کے پیچھے بھاگنے سے بہتر ہے کہ چار دائروں والا یہ خاکہ سمجھیں اور ایکی گائی کا مفت ٹول استعمال کر کے دیکھیں۔

ڈگری کو رد نہ کریں، اس پر رکیں بھی نہیں۔ ڈگری تجزیاتی سوچ اور نیٹ ورک کی بنیاد ہے۔ جو کورس بیچنے والا آپ کو اسے چھوڑنے کا مشورہ دے رہا ہے، پہلے دیکھیے کہ اس مشورے سے کمائی کس کی ہو رہی ہے۔

چھوٹا بنائیں، آزمائیں، بہتر کریں۔ کیریئر کو پراڈکٹ کی طرح چلائیں۔ ایک بنیادی ہنر سیکھیں، اسے مارکیٹ میں آزمائیں، فیڈ بیک دیکھیں، خامی دور کریں۔ اگر کوئی ہنر کام نہیں کر رہا تو بروقت راستہ بدلنے کی لچک رکھیں۔ یہی ایجائل سوچ ہے۔

تنہا نہ چلیں۔ اپنے شعبے کی کمیونٹیز، پروفیشنل نیٹ ورکس اور اوپن سورس منصوبوں کا حصہ بنیں۔ ایونٹس میں رضاکار(volunteer) بنیں، اپنا علم بانٹیں۔ وہاں ملنے والی رہنمائی اور مواقع اکثر کسی مہنگے کورس میں نہیں ملتے۔ ورڈکیمپ کے انتظام کا اپنا تجربہ میں نے الگ لکھا ہے۔

نظام ٹھیک ہونے تک کیا کریں

انٹرنیٹ کو دوسری یونیورسٹی بنائیں۔ ہارورڈ، ایم آئی ٹی اور سٹینفورڈ جیسے اداروں کے کئی کورس Coursera، edX اور YouTube پر مفت یا کم فیس میں موجود ہیں۔ شرط ایک ہے: دیکھنے پر نہ رکیں، جو سیکھیں اس سے کچھ بنائیں۔

ڈگری کے ساتھ ایک جدید ہنر جوڑیں۔ شعبہ کوئی بھی ہو، ڈیٹا اینالیٹکس، مصنوعی ذہانت کا بنیادی استعمال اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ ہر جگہ کام آتے ہیں۔

لنکڈ ان کو سنجیدگی سے لیں۔ اپنے شعبے کے لوگوں کو فالو کریں، ان کی پوسٹس پر تعمیری تبصرے کریں اور ان سے سیکھیں۔ بہت سے مواقع اشتہار بننے سے پہلے ہی نیٹ ورک میں گردش کرتے ہیں۔

انٹرن شپ اور رضاکارانہ کام کریں۔ تعلیم کے دوران کمپنیوں، سٹارٹ اپس یا این جی اوز کے ساتھ کام کا اصل ماحول دیکھیں۔ کم پیسوں پر بھی کام کیا جا سکتا ہے، بس طے کر لیں کہ کتنی مدت اور بدلے میں کیا سیکھیں گے۔

اپنی بات پیش کرنا سیکھیں۔ گلوبل مارکیٹ کی زبان انگریزی ہے، یہ تلخ سہی مگر حقیقت ہے۔ آپ کتنے ہی قابل ہوں، اگر اپنا آئیڈیا اعتماد سے پیش نہیں کر سکتے تو پیچھے رہ جائیں گے۔ بول چال، پریزنٹیشن اور ای میل، تینوں پر کام کریں۔

ڈگری کاغذ ہے، پورٹ فولیو ثبوت

سی وی بتاتا ہے کہ آپ نے کیا پڑھا۔ پورٹ فولیو دکھاتا ہے کہ آپ کیا کر سکتے ہیں۔ یہ کام کا ڈھیر نہیں، اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کسی کا مسئلہ حل کر سکتے ہیں۔

اپنے شعبے کا پلیٹ فارم چنیں۔ سافٹ ویئر کے لیے GitHub، جس میں ہر پراجیکٹ کی واضح ReadMe فائل ہو۔ ڈیزائن اور UI/UX کے لیے Behance یا Dribbble۔ لکھنے، تحقیق اور صحافت کے لیے Medium، Substack یا اپنا بلاگ۔ مارکیٹنگ، فنانس اور مینجمنٹ کے لیے لنکڈ ان کا Featured سیکشن یا Notion کا ایک صفحہ، جہاں آپ کی کیس سٹڈیز، مارکیٹنگ پلان یا فنانشل ماڈل موجود ہوں۔

کلائنٹ نہیں ملا تو فرضی پراجیکٹ بنائیں۔ کسی موجودہ ایپ کو دوبارہ ڈیزائن کریں، کسی کمپنی کے لیے مارکیٹنگ مہم تیار کریں، کسی ویب سائٹ کی خامیاں دور کریں۔ بس صاف لکھ دیں کہ یہ آپ کی اپنی مشق ہے۔ یونیورسٹی کا آخری سال سامنے ہے تو فائنل ایئر پراجیکٹ کے آئیڈیا پر اس ورکشاپ کے نکات بھی دیکھ لیں۔

ہر پراجیکٹ کے ساتھ تین سوالوں کا جواب لکھیں۔ مسئلہ کیا تھا؟ آپ نے کون سے ٹولز استعمال کیے اور یہی حل کیوں چنا؟ نتیجہ کیا نکلا؟ دیکھنے والا صرف حتمی کام نہیں، آپ کا سوچنے کا انداز دیکھتا ہے۔

بیس اوسط نہیں، تین سے پانچ بہترین۔ پورٹ فولیو کو کچرا دان نہ بنائیں۔ اسے آپ کے کمزور ترین کام سے بھی پرکھا جاتا ہے۔ نیا اور بہتر کام آئے تو پرانا ہٹا دیں۔

تعارف اور رابطہ نمایاں رکھیں۔ شروع میں دو سطروں میں لکھیں کہ آپ کون ہیں اور کس قسم کے مسائل حل کرتے ہیں۔ ساتھ ای میل، لنکڈ ان اور سی وی کا لنک ہو۔

دوسرا حکم: تعلیمی اداروں کے نام

یہ تبدیلی کتابوں کے الفاظ بدلنے سے نہیں، تدریس کی پوری ثقافت بدلنے سے آئے گی۔

امتحان کے ساتھ پراجیکٹ۔ قابلیت کا اندازہ صرف تحریری پرچے تک محدود نہ رہے۔ سمسٹر کے آغاز سے طلباء کو حقیقی دنیا کے مسائل پر کام دیا جائے، اور مضمون کا اختتام کسی عملی ماڈل، تحقیقی مقالے یا کیس سٹڈی پر ہو۔

نصاب میں انڈسٹری کی آواز۔ نصاب کی تیاری میں مقامی اور بین الاقوامی انڈسٹری کے ماہرین شامل ہوں۔ ڈگری کے دوران انٹرن شپ، فیلڈ ورک اور مینٹورشپ لازمی ہو، تاکہ طالب علم گریجویشن سے پہلے مارکیٹ کو جان لے۔

لچکدار نصاب۔ دہائیوں پرانا سلیبس رٹوانا وقت کا ضیاع ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور آٹومیشن جیسے موضوعات کے مطابق نصاب باقاعدگی سے بدلے، اور طلباء کو دوسرے شعبوں کے مضامین چننے کی آزادی ہو۔

سوال پوچھنے کی تربیت۔ کمیونیکیشن، ٹیم ورک، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور لیڈرشپ باقاعدہ ورکشاپس کے ذریعے سکھائی جائیں۔ طالب علم کو لکھی ہوئی بات من و عن ماننے کے بجائے اس پر سوال اٹھانا سکھایا جائے۔

استاد کی اپنی تربیت۔ جو استاد خود مارکیٹ کے رجحانات اور عملی چیلنجز سے واقف نہیں، وہ طالب علم کو مستقبل کے لیے کیسے تیار کرے گا؟ جدید تدریسی طریقوں کی تربیت مسلسل ہونی چاہیے۔

نام کا نہیں، کام کا انکیوبیشن سینٹر۔ جہاں طالب علم کا آئیڈیا واقعی کاروبار بن سکے، اور اسے ابتدائی فنڈنگ، قانونی رہنمائی اور انڈسٹری سے رابطے ملیں۔

جب طالب علم کو نظر آئے گا کہ اس کی تعلیم کا براہِ راست تعلق اس کے مستقبل سے ہے، تو محنت کا راستہ اسے خود بہتر لگنے لگے گا۔

تیسرا حکم: حکومت اور ایچ ای سی کے نام

جامعات میں دیرپا تبدیلی اس وقت تک مشکل ہے جب تک پالیسی ساز ادارے بیوروکریٹک رکاوٹیں ہٹا کر ایک لچکدار فریم ورک نہ دیں۔

گنتی نہیں، اثر ناپیں۔ یونیورسٹی کی درجہ بندی میں صرف یہ نہ دیکھا جائے کہ کتنے مقالے چھپے یا کتنے پی ایچ ڈی بنے۔ یہ بھی دیکھا جائے کہ اس کی تحقیق نے کون سا مقامی مسئلہ حل کیا، کتنے سٹارٹ اپس بنے اور کتنے طلباء روزگار کے قابل ہوئے۔

نصاب کی منظوری تیز کریں۔ ٹیکنالوجی تیزی سے بدل رہی ہے اور منظوری کا عمل سست ہے۔ ایچ ای سی بنیادی فریم ورک دے اور باقی نصاب تازہ رکھنے کی خودمختاری جامعات کو دے۔

انڈسٹری کو ترغیب دیں۔ جو کمپنیاں طلباء کو معاوضے والی انٹرن شپ دیں، جامعات میں لیبارٹریاں بنائیں یا تحقیق کے لیے فنڈ دیں، انہیں ٹیکس میں چھوٹ ملے۔ یہ رشتہ صرف جامعات کے چاہنے سے نہیں بنے گا۔

تحقیقی فنڈ کو حقیقی مسائل سے جوڑیں۔ زراعت، توانائی، آئی ٹی برآمدات اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے مسائل کو ترجیح ملے۔ جو تحقیق صرف الماری کی زینت بنے، قومی خزانے کا پہلا حق اس پر نہیں۔

اساتذہ کو انڈسٹری سے جوڑیں۔ ترقی کے معیار میں یہ شامل ہو کہ استاد ہر چند سال بعد کچھ عرصہ انڈسٹری کے ساتھ عملی کام کرے۔

قومی ہنر فریم ورک بنائیں۔ ہر ڈگری واضح مہارتوں سے جڑی ہو۔ وہ محض کاغذ نہ رہے، اس بات کا ثبوت ہو کہ اس کا حامل فلاں عملی کام کر سکتا ہے۔

عدالت برخاست ہوتی ہے

دوسرے اور تیسرے حکم پر عمل میں برسوں لگ سکتے ہیں۔ پہلے حکم پر عمل آج شام شروع ہو سکتا ہے: ایک چھوٹا پراجیکٹ، تین سوالوں کے جواب، ایک لنک۔ یہ سفر لمبا ہے اور اس میں مستقل مزاجی اور صبر سب سے بڑے ہتھیار ہیں۔ مہارت اصل میں کیا مانگتی ہے، اس پر میں نے الگ لکھا ہے۔

جب آپ کسی انٹرویو یا کلائنٹ میٹنگ میں اپنا کام کھول کر سامنے رکھیں گے، تو وہ کاغذ کی ڈگری سے کہیں اونچی آواز میں آپ کی گواہی دے گا۔

اب آپ کی باری ہے۔ اس مقدمے میں آپ کا فیصلہ کیا ہوتا؟ اگر آپ طالب علم یا استاد ہیں اور آپ کے ہاں کچھ بدلا ہے، تو رابطہ کریں، میں سننا چاہوں گا۔

Tahir Shahzad
About the author

Tahir Shahzad

Tahir Shahzad is a Product Manager, Product Owner, and technology consultant with over a decade of experience helping startups and organizations build products people actually use. If you are working on a product problem worth solving, reach him at tahirshahzad.com/contact/

Let's find your real bottleneck in 30 minutes

Book a free 30-minute product review. You'll leave with a clear read on what's blocking delivery and what to tackle first, whether or not we end up working together.

Book a Free 30-Min Review 30 minutes. No pitch, no obligation.