شطرنج میں آپ کو پہلے سے کھیل کے اختتام کا پتا نہیں ہوتا۔ یہ کھیل کس موڑ پر اور کس طرح ختم ہو گا، جیت آپ کا مقدر ہو گی یا نہیں، یہ کوئی نہیں جانتا۔ نہ نووارد کھلاڑی، نہ چیمپیئن۔
زندگی بھی اسی اصول پر چلتی ہے۔ کسی کام کے آغاز میں یہ جاننا ضروری نہیں کہ کامیابی ملے گی یا نہیں۔ اکثر لوگ کامیابی کی ضمانت ڈھونڈنے کے چکر میں پہلا قدم ہی نہیں اٹھاتے۔ وہ انتظار کرتے رہتے ہیں کہ راستہ صاف نظر آئے، پھر چلیں گے۔ مگر راستہ کبھی مکمل صاف نظر نہیں آتا۔ پہلا قدم اٹھانا ہی اصل کام ہے۔
میں نے اپنے کیریئر میں یہ بات بار بار دیکھی ہے۔ ایک ویب ڈویلپر کے طور پر شروعات کرنے والے کو یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ ایک دن پراڈکٹ کے فیصلے کرے گا۔ ایک انجینئر جو کوڈ لکھ رہا ہوتا ہے، اسے نہیں پتا ہوتا کہ وہ ٹیم لیڈ بنے گا یا نہیں۔ ہر قدم پر غیر یقینی موجود ہوتی ہے۔ اگر ہر فیصلے سے پہلے مکمل یقین کا انتظار کیا جائے، تو کوئی قدم کبھی نہیں اٹھایا جا سکتا۔
شطرنج میں کوئی نہیں جانتا کہ بازی کیسے ختم ہو گی۔ زندگی بھی اسی اصول پر چلتی ہے، پھر بھی پہلا قدم اٹھانا ضروری ہے۔
دو یا تین چالیں آگے
شطرنج میں اچھا کھلاڑی پوری بازی پہلے سے سوچنے کی کوشش نہیں کرتا۔ اس کی توجہ موجودہ منظر پر ہوتی ہے، اور اس کے بعد اگلا ممکنہ منظر کیا ہو سکتا ہے۔ اس سے زیادہ کا علم نہیں ہوتا۔ دنیا کے بہترین کھلاڑی بھی زیادہ سے زیادہ دو یا تین قدم آگے کا اندازہ لگاتے ہیں۔ پوری بازی کا نقشہ ذہن میں بنانا ممکن ہی نہیں۔
یہی بات کام اور کیریئر پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ پانچ سال بعد کہاں ہوں گے، یہ سوچنا مفید ہے، مگر اس پر مکمل انحصار کرنا غلط ہے۔ جو چیز آپ کے ہاتھ میں ہے وہ اگلا قدم ہے۔ موجودہ کام کو ٹھیک طریقے سے کرنا، اگلے مرحلے کے لیے تیار ہونا، اور اس سے آگے کا فیصلہ اسی وقت کرنا جب وہ مرحلہ سامنے آئے۔ جو لوگ ہر چال کا حساب پہلے سے لگانے کی کوشش میں وقت ضائع کرتے ہیں، وہ اکثر پہلی چال ہی دیر سے چلتے ہیں۔
مجھے ایک پرانے گانے کے یہ بول بہت پسند ہیں:
Whatever will be, will be
The future’s not ours to see
Que será, será
What will be, will be
یہ الفاظ لاپرواہی کا درس نہیں دیتے۔ یہ صرف اتنا کہتے ہیں کہ آنے والا کل ہمارے مکمل کنٹرول میں نہیں، اس لیے اس کی فکر میں موجودہ لمحے کو ضائع نہ کیا جائے۔
مشترکہ بات کیا ہے
کامیابی کی ضمانت کسی کے پاس نہیں ہوتی۔ مگر جو لوگ زندگی میں کچھ بن جاتے ہیں، ان کے ماضی میں ایک چیز مشترک نظر آتی ہے۔ وہ اپنے موجودہ حال پر غور کرتے ہیں، نیک نیتی سے اسے بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں، اور آنے والے کل کی تیاری کرتے ہیں۔
جن کا اندازہ اور تیاری آنے والے کل سے میل کھا جاتی ہے، وہ ایک بہتر کل کا استقبال کرتے ہیں۔ جن کا اندازہ میل نہیں کھاتا، ان کے لیے یہ ایک سبق بن جاتا ہے۔ لیکن دونوں فریق دوبارہ اسی امتحان سے گزرتے ہیں۔ کامیابی ہو یا ناکامی، اگلا دن پھر ایک نئی چال کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ سلسلہ رکتا نہیں۔
فرق صرف اتنا ہے کہ جو لوگ ہر بار اپنے موجودہ حال کا ایمانداری سے جائزہ لیتے ہیں، وہ اگلی چال بہتر چلتے ہیں۔ جو لوگ اپنے حال کا جائزہ لینا چھوڑ دیتے ہیں، وہ ایک ہی چال بار بار دہراتے رہتے ہیں، چاہے نتیجہ کچھ بھی نکلے۔
سوال جو میں خود سے پوچھتا ہوں
میں آج جہاں کھڑا ہوں، اس میں کیا بہتر ہو سکتا ہے؟ اور کیا میری موجودہ تیاری آنے والے کل سے مطابقت رکھتی ہے؟
یہ سوال روزانہ پوچھنے کے قابل ہے۔ نہ اس لیے کہ اس کا جواب ہمیشہ اطمینان بخش ہو، بلکہ اس لیے کہ یہی سوال ہمیں اگلی چال چلنے کے قابل بناتا ہے۔
اگر آپ کے پاس اپنی زندگی یا کام کی کوئی ایسی چال ہے جو آپ نے بغیر مکمل یقین کے چلی، اور اس کا نتیجہ کچھ سکھا گیا، تو رابطہ کریں، میں سننا چاہوں گا۔
