زندگی میں دو چار لوگوں کے لیے مخلص ہونا، کسی سینئر کی عزت کرنا یا کسی دوست کے لیے قربانی دینا، یقینا اس بات کی گواہی ہے کہ آپ میں کچھ اچھائی باقی ہے۔ لیکن انسانیت اس سے بڑھ کر کسی چیز کا نام ہے۔
انسانیت کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ کو بھوک لگی ہو تو آپ کو یہ احساس ہو کہ باقیوں کو بھی بھوک لگی ہو گی۔ میں اپنے حصے کا کھا لوں اور دوسرے کا حصہ رہنے دوں، اتنا بھی کافی ہے۔ مگر انسانیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ اپنا حق ہر اس شخص کے حوالے کر دیں جو اپنی لاپرواہی کا بوجھ دوسروں پر ڈالنا چاہتا ہے۔ یہ دو الگ چیزیں ہیں، اور معاشرے میں اکثر انہیں گڈمڈ کر دیا جاتا ہے۔
مثال کے طور پر سفر کے لیے زادِ راہ نہ رکھنا کہ بوجھ محسوس ہوتا ہے، اور بعد میں دوسرے شخص کا سامان استعمال کرنا۔ یہ لاپرواہی ہے، ضرورت نہیں۔ اور جہاں لاپرواہی ہو، وہاں مدد ذمہ داری بن جاتی ہے، احسان نہیں رہتی۔
اسی رویے کی وجہ سے اکثر مجھے بھی سخت ہونا پڑتا ہے۔ عام حالات میں، میں اپنے حصے میں سے بھی آدھا بانٹنے کو ترجیح دوں گا۔ مگر جب دیکھتا ہوں کوئی اپنی حد سے بڑھ رہا ہے، تو پھر اپنا حصہ صاف طور پر واپس لے کر الگ ہو جاتا ہوں۔ افسوس ہوتا ہے ان پر جن کا حصہ انہیں نہیں ملتا، مگر ہر بار وجہ ان کی اپنی کمزوری نہیں ہوتی، بعض دفعہ حالات بھی ہوتے ہیں۔ اسی لیے فیصلہ سنانے کی بجائے، صرف اتنا کافی ہے کہ اپنی حدود واضح رکھی جائیں۔
جی، میرے پاس بیگ ہے، کیونکہ میں نے اپنا سفر خود پلان کیا ہے۔ اگر آپ کے پاس سامان کا بوجھ نہیں تو بوتل اپنے ہاتھ میں رکھیں، یا خود ایک بیگ لے آئیں۔ میرے وزن میں اضافہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔
ایک چیز نے مجھے ہمیشہ سکون دیا ہے: کھانے اور سفر کے معاملے میں دوسروں پر انحصار نہ کرنا۔ اگر مجھے کہیں جانا پسند ہے تو میں جاؤں گا، بھلے دس لوگوں نے کہیں اور جانے کا سوچا ہو۔ اگر مجھے کوئی چیز کھانی ہے تو حاصل کروں گا، چاہے کسی اور کو چاہیے یا نہیں۔ دوسروں کو دیکھ کر فیصلہ کرنا، اپنی خودی کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
