گلی کے کونے پر ایک چھوٹی سی دکان تھی، جہاں پرچون کے سامان کے ساتھ کاپیاں اور قلم بھی بکتے تھے۔ دوپہر کا وقت تھا۔ دکان کے سامنے کھڑا ایک بزرگ کچھ حساب کتاب میں مصروف تھا، جب ایک قلم اس کے ہاتھ سے اچھل کر ہوا میں اڑا اور سڑک کے بیچ میں جا گرا۔ جو بچہ یہ قلم لے کر آیا تھا، وہ اسے سہم کر دو قدم پیچھے ہٹ گیا۔
بزرگ کی رگیں غصے سے پھول گئیں۔ آواز چنگھاڑ اٹھی: آئندہ رضیہ کا قلم لے کر مت آنا۔ بچے نے جلدی سے قلم اٹھایا اور بھاگ کر وہاں سے نکل گیا۔
سڑک کے ایک طرف دکانیں تھیں، دوسری طرف رہائشی گھر۔ انہی گھروں میں سے ایک کی کھڑکی میں ہلکی سی درز تھی، اتنی کہ کوئی چپکے سے باہر جھانک سکے۔ اسی درز سے ایک نوجوان لڑکی سڑک کا منظر دیکھ رہی تھی۔ اس کی نظریں اسی بچے کے تعاقب میں تھیں جو ابھی ابھی اس کے گھر سے نکل کر سڑک پار دکان میں داخل ہوا تھا۔ دکان کے اندر بزرگ اور بچے کے درمیان کیا بات ہو رہی تھی، یہ اسے سنائی نہیں دیا، مگر اڑتے قلم اور بزرگ کی جھلاہٹ سے اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا۔
بزرگ نے ضرور پوچھا ہو گا کہ یہ قلم کس کا ہے۔ بچے نے جواب دیا ہو گا: رضیہ باجی کا۔ اور “رضیہ” کا نام کان میں پڑتے ہی بزرگ کا غصہ عروج پر پہنچ گیا۔ اس نے قلم کو خاک میں ملا دیا۔ رضیہ کو پڑھنے کی اجازت نہیں تھی۔ اس کے ابا کا ماننا تھا کہ لڑکی پڑھ کر کیا کرے گی؛ لڑکیوں کا کام گھر داری سیکھنا ہے، کتابیں پڑھنا نہیں۔
کھڑکی کے پیچھے کھڑی رضیہ نے آہستہ سے کھڑکی مکمل بند کر دی۔ کھڑکی بند ہوتے ہی جیسے اس کا دل بھی کسی پنجرے میں قید ہو گیا۔ ایک لمحے کو اسے اپنا وجود لاغر محسوس ہوا، جیسے ٹانگیں اپنے ہی بوجھ سے انکار کر دیں گی۔ وہ دیوار کا سہارا لے کر کھڑی ہو گئی، اور سارا واقعہ ذہن میں دہرانے لگی۔ دل گھبرانے لگا، سوچیں طویل ہوتی گئیں، اور آنکھوں میں نمی اترنے لگی۔ اگلے ہی لمحے ایک آنسو گال پر سرک آیا۔ یہ فیصلے کی گھڑی تھی۔
رضیہ نے بے دردی سے وہ آنسو پونچھا اور دل میں ایک اٹل فیصلہ کیا: ہار نہیں ماننی۔
یہ عزم کچھ عرصے بعد ایک اور امتحان سے گزرا۔ سکول میں نئی آنے والی استانی نے سبق پڑھنے کو کہا، مگر رضیہ کے پاس کتاب نہیں تھی۔ اس نے جھٹ سے ساتھ والی لڑکی کی کتاب کھینچ لی اور آج کا سبق نکالنے لگی۔ استانی کی نظر یہ سب دیکھ رہی تھی۔ طالبات کی طرف سے ایسی بے قاعدگی اسے ناقابلِ برداشت لگی، اور اگلے ہی لمحے ایک زناٹے دار تھپڑ رضیہ کے گال پر پڑا۔ یہ سزا تھی کتاب ساتھ نہ لانے کی۔
وہ لڑکی جو ایک کتاب خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی تھی۔ وہ لڑکی جس کے قلم میں دوات کی سیاہی کے ساتھ باپ کا غصہ بھی گھلا ہوا تھا۔ ایسی بے شمار رکاوٹوں کے باوجود رضیہ نے امتیازی نمبروں سے امتحان پاس کیا۔ بعد میں جب استانی کو رضیہ کے حالات کا علم ہوا، تو اس نے دوبارہ کبھی اسے سزا نہ دی۔
کلاس میں معمول سے زیادہ خاموشی تھی۔ مس رضیہ اپنی نشست پر بیٹھی، کھڑکی سے باہر جھانکتی ہوئی سی، آہستہ آہستہ یہ واقعات سنا رہی تھیں، اور میں سامنے طالب علم کی حیثیت سے خاموش بیٹھا سن رہا تھا۔ کمرے میں صرف ان کی آواز تھی، اور باقی سب چہرے ان کی طرف متوجہ۔
ان کے چہرے پر نمودار ہوتی جھریاں اور پکا ہوا رنگ بتا رہا تھا کہ یہ کوئی عام زندگی نہیں گزری۔ یہ ایک ایسی شاہسوار کا چہرہ تھا جو زندگی کے کئی اتار چڑھاؤ اور طوفانوں سے نبرد آزما ہو کر یہاں تک پہنچی تھی، اور جن قدموں کے نشان آج بھی کئی طالبات کی راہ روشن کر رہے تھے۔ وہی لڑکی، جس کا قلم کبھی خاک چٹوایا گیا تھا، اب ایک معتبر سکول میں استانی کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دے رہی تھی۔
میں نے ان جیسی شفیق اور مہربان استانی آج تک نہیں دیکھی۔ آج بھی جب ان کا چہرہ خیالوں میں آتا ہے، تو ایک ماں جیسی محبت نظر آتی ہے۔ ان کے طلبا و طالبات کے لیے، ریاضی کے علاوہ عام زندگی میں بھی، ان کا کردار مشعلِ راہ ہے۔
یہ واقعہ مس رضیہ نے تقریباً سن 1999 یا 2000 میں پاکستان نیوی پرائمری اینڈ سیکنڈری سکول، حنیف ایس آر ای، کارساز میں سنایا تھا، جہاں وہ خود ریاضی پڑھایا کرتی تھیں۔
کیا آپ کی زندگی میں بھی کوئی ایسا استاد رہا ہے جس کی کہانی نے آپ کو کچھ سکھایا؟
