آسمان اور آسمان میں تیرنے والے اجرام فلکی نے ہمیشہ سے انسان کو مبہوت کئے رکھا۔  جب یہ ستارے انسان کی سمجھ سے بالاتر تھے تو انسان نے انہیں ہاتف غیبی کی پیغام رسانی کا ذریعہ سمجھا۔ ستاروں اور سیاروں کے درمیان فرضی تعلقات قائم کئے، خطوط کھینچے اور اپنے تخیل کے زور پر مختلف اشکال کو فرض کر لیا۔

اللہ نے اس کائنات کو بے عیب بنایا ہے۔ اس کائنات میں ایٹم کے اندر موجود باریک ترین ذرات سے لے اجرام فلکی تک اور ہماری سوچ سے ماورا ہر چیز کو ایک ترتیب اللہ نے عطا کی ہے اور اس ترتیب میں بال برابر بھی فرق نہیں آسکتا۔ اگر یہ زمین ایک ذرہ بھی سورج کی قریب یا دور ہوتی تو زمین پر زندگی کا کوئی وجود نہ ہوتا۔

ہم انسانوں کے معمولات ایسے ہوتے ہیں کہ اگر  نو بجے دفتر پہنچنا ہے تو ایسا نہیں ہوتا کہ روزانہ ہم نو بجے ہی پہنچ رہے ہوں، کبھی کچھ منٹ اور سیکنڈ کم کبھی کچھ منٹ اور سیکنڈ زیادہ ہو ہی جاتے ہیں۔  یہ ہم انسانوں کی بنائے ہوئے معمولات سے ہٹ کر ایک چیز ہے۔ یہ زمین، چاند، سورج، سیارے، ستارے اور دیگر اجرام فلکی مقرر کردہ مداروں میں متعین کردہ رفتار کے ساتھ تیر رہے ہیں۔

اسی نے تمہارے لیے سورج چاند کو مسخر کردیا ہے کہ برابر ہی چل رہے ہیں اور رات دن کو بھی تمہارے کام میں لگا رکھا ہے

سورہ ابراھیم، آیت ۳۳

جہاں الل نے یہ کائنات اور اس کے اجزا پیدا کئے ہیں وہیں انسان کو بھی تجسس اور شعور دے کر پیدا کیا۔ اللہ چاہتا ہے کہ انسان اپنے اد گرد نظر دوڑائے، غور فکر کرے اور کائنات کے اسرار جاننے کی کوشش کرے۔ کائنات کے ان گنت علوم اور اسرار میں سے ایک علم ریاضی کا ہے۔ وکیپیڈیا کے مطابق

 “ریاضی دراصل اعداد کے استعمال کے ذریعے مقداروں کے خواص اور ان کے درمیان تعلقات کی تحقیق اور مطالعہ کو کہا جاتا ہے، “

ان گنت سالوں کی تحقیق اور متجسس ذہنوں نے ریاضی کے ذریعے ہی معلوم کیا کہ زمین کی شکل ایک توے کے بجائے کرہ کی مانند ہے۔، زمین کی گردش سورج کے گرد ہے نہ کہ سورج زمیں کے گرد چکر لگا رہا ہے۔ زمین کا محل وقوع کیا ہے اور نظام شمسی میں کون سے سیارے شامل ہیں۔ مزید انسان نے یہ جانا کہ زمین کی کمیت

  5.972 x 10^24 KG

ہے۔ زمین کا سورج سے فاصلہ

149.6 million Km

ہے۔ چاند کا زمین سے فاصلہ

384,400 Km

ہے۔ ریاضی کے علوم نے اور وقت سے ساتھ حاصل کی ہوئی ٹیکنالوجی سے انسان نے اجرام فلکی کے مدار معلوم کئے، ان کی رفتار اور ان کے باہمی تعلق کو پہچانا۔

سورج اور چاند کیلئے ایک حساب ہے

سورہ الرحمن، آیت ۵

یہ حقائیق بالکل اسی طرح عیاں ہیں جیسے ایک عام آدمی کو معلوم ہوتا ہے کہ سال کے دنوں میں سورج کس وقت طلوع ہو گا اور کس وقت غروب ہوگا۔ 

اجرام فلکی کی اس گردش کا ایک تعلق قدیم رسم و رواج اور مذاہب کے ساتھ بھی ہے اور موجودہ دور کے وقت کے پیمانہ کے ساتھ بھی ہے۔ جیسے 24 گھنٹے کا ایک دن، زمین کے اپنے مدار کے گرد چکر لگانے سے اخذ کیا جا سکتا ہے۔ 365 دن، 12 مہینے اور ایک سال سے زمین کے سورچ کے گرد ایک چکر  مکمل کرنے کا پیمانہ ہے۔

 چاند کی درجات طے کرنے کے ساتھ مہینوں اور موسموں کا تعین کیا جاتا ہے۔ دیگر مذاہب اور تہذیب و تمدن کی طرح اسلام میں بھی چاند کی تواریخ کو اہم مقام حاصل ہے۔ یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ چان کی پہلی تاریخ کا تعین افق پر چان کے نظر آنے سے ہوتا ہے۔ چاند افق پر اس وقت نظر آئے گا جب سورج کے غروب ہونے کے بعد بھی چاند افق پر موجود رہے۔ اگر آسان لفظوں میں کہا جائے تو  جیسے سورج غروب ہوتا ہے ایسے چاند بھی غروب ہوتا ہے۔ جیسے ہر خطہ کے لئے سورج کے غروب ہونے کا وقت مختلف ہے اسی طرح چاند بھی ہر خطہ میں مختلف وقت میں غروب ہوتا ہے۔اور اگر چاند کا غروب ہونا، سورج کے غروب ہونے سے پہلے واقع ہو جائے تو چاند نظر نہیں آئے گا۔ اور اس خطہ کے لئے چاند کی پہلی تاریخ، شمسی تاریخ کے اگلے دن پر واقع ہوگی۔

پہلے وقتوں میں چاند کی پہلی تاریخ کا تعین انسانی آنکھ کی شہادت سے کیا جاتا تھا۔ اس کی خوبصورتی یہ ہے کہ چونکہ لاکھوں لوگ اس کے گواہ ہو سکتے ہیں تو کوئی دو چار لوگ اس کا انکار نہیں کر سکتے جبکہ اس میں قباحت یہ ہے کہ بادل ہونے کی صورت میں چاند نظر نہیں آتا۔

انہی علوم کے ذریعے جن کے اسرار اللہ نے انسانوں پر عیاں کئے۔ ہم زمین کے کسی بھی حصے کے لئے افق کا تعین کر سکتے ہیں، چاند اور سورج کے مدار اور ان کی رفتار کا تعین کر سکتے ہیں۔ اور اس بنا پر ہم بتا سکتے ہیں کہ چاند کی پہلی تارخ واقع ہوئی یا نہیں ہوئی۔

آپ ایک دکان دار سے پھل لینے چائیں اور وہ چار دانے اٹھا کر آپ کو پکڑا دے۔ یہ لیجئے یہ پھل ایک کلو ہو گیا۔ کیا آپ اس کا یقین کر لیں گے؟ میرا خیال یہ ہے کہ جب تک ترازو پر ناپ تول نہ کر لیا جائے دکاندار کا اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔  اسی طرح  ہو سکتا ہے کوئی شخس یا گروہ چاند کی جھوٹی شہادت دے مگر جب اللہ کے دئے ہوئے علوم کے ذریعے ہم ناپ تول کریں گے تو شک کی گنجائش نہیں رہے گی۔ کسی انسان کے اندازے کو ترازو کے اصل تول پر فوقیت نہیں دی جا سکتی اسی طرح اللہ کی مقرر کردہ مدار اور اجرام فلکی کی رفتار کے لئے انسانی آنکھ کی شہادت سے بجائے ریاضی کے اصول کی شہادت کو فوقیت رہے گی۔

4 May: شام ۷ بجے افق کے قریب سورج اور چاند کے مقامات
5 May:شام ۷ بجے افق کے قریب سورج اور چاند کے مقامات

زیر نظر تصاویر ایک سافٹ وئیر سے لی گئی ہیں جو اجرام فلکی سے متعلق معلومات جدید علوم کے مطابق فراہم کرتا ہے۔ اس میں سرخ لائن افق کو ظاہر کر رہی ہے۔ جمک دار ستارہ سورج ہے۔ چاند کو واضح کرنے کے لئے پیلے رنگ کا دائرہ لگایا گیا ہے اور نیلے رنگ کا مدار چاند کا مدار ہے  

پہلی تصویر چار مئی کو شام 7 بجے اسلام آباد سے لی گئی ہے جس کے مطابق چاند

06:25pm

افقی لائن عبور کر چکا تھا لہذا چاند نظر آنے کا امکان زیرو فیصد ہے۔

دوسری تصویر پانچ مئی کو شام ۷ بجے اسلام آباد سے لی گئی ہے جس کے مطابق سورج غروب ہو چکا ہے اور چاند نے ابھی افقی لائن کو عبور نہیں کیا۔ چاند افق پر 7 بج کر 25 منٹ تک رہے گا۔ تک رہے گا۔ اس کے مطابق ۵ مئی کو اسلام آباد کے لئے چاند کی پہلی تاریخ واقع ہو گئی ہے۔

میں اسی یقین کے ساتھ آنے والی چاند کی تواریخ کا تعین بھی کر سکتا ہوں۔