This post is part of the series حوا کی بیٹی

سیاق و سباق:
ابھی کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ اسلام آباد کی سڑکوں پر کچھ خواتین نکلتی ہیں۔ خواتین کے ہاتھوں میں بینر اور چارٹ ہیں جن پر مختلف کلمات درج ہیں۔ جیسا کہ “اپنا کھانا خود گرم کر لو”، “میرا جسم میری مرضی” اور “یہ چار دیواری، یہ چادر گلی سڑی لاش کو مبارک”۔

تمہید:
بظاہر اس ریلی کا مقصد معاشرے میں خواتین کے حقوق کے آگہی پیدا کرنا تھا مگر اس کے منظر عام پر آنے کے ساتھ ہی عوام کی طرف سے غم و غصہ کا اظہار ہونے لگا۔ ہمارے معاشرے کی ایک بڑی تعداد نے گالم گلوچ، مغربی تہذیب کے اثرات پر تبصرے اور خواتین کے حدود سے تجاوز کرنے پر لعن طعن سے جواب دیا۔ جب تمام تر تیر اندازی کا ہدف وہ خواتین بن گئیں تو کسی نے یہ سوچنا گوارہ ہی نہ کیا کہ وہ کہنا کیا چاہتی ہیں؟ ان جملوں کا مطلب کیا ہے؟ یہ جملے لکھنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟
مزید کچھ لکھنے سے پہلے اپنا موقف واضح کر دوں کہ ان خواتین کا طریقہ کار نا مناسب تھا جس پر بحث کی جا سکتی ہے۔ اختلاف رائے کا مقصد معاشرے کی اصلاح ہونا چاہئے نہ کہ اپنے معاشرے کو تضحیک کا نشانہ بنانا اور شہرت حاصل کرنا۔ میرے قلم کا مقصد یہ بھی نہیں کہ میں ان کلمات کو جواز فراہم کرنا چاہتا ہوں۔ میرا مقصد صرف ایک آئینہ فراہم کرنا ہے۔ اگر اس آئینے کو دیکھ کر کوئی بے چینی محسوس ہو یقینااس معاشرے کو بدلنے کی ضرورت ہے نہ کہ احتجاج کرنے والوں پر گالم گلوچ کرنے کی۔

پہلی لڑکی:
شادی کے بعد میں اپنی نعت خواں سہیلی سے ملنے گئی تو اس نے اپنی کلائیوں پر پٹی باندھی تھی۔ قمیض ایسی پہنی تھی کہ کلائیاں نظر نہ آئیں۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہوا ہے تو وہ بتانے سے کترانے لگی۔ میری سہیلی مجھ سے ہی بات چھپانے لگی تھی اور میرا اصرار بڑھنے لگا۔ وہ خاموش ہو گئی۔ شاید اسے معلوم نہیں تھا کہ بات کا آغاز کہاں سے کرے۔ آخر اس کی خاموشی کا تسلسل ٹوٹا اور وہ بتانے لگی۔
شادی کی رات ہر لڑکی کی آنکھ میں سنہرے سپنے جگمگاتے ہیں۔ میرے سپنے اس وقت جکنا چور ہوئے جب وہ شراب پی کر کمرے میں داخل ہوا۔ میں جو کسی خوشبو کے جھونکے کا انتظار کر رہی تھی وہ بدبو دار ہوا سونگھ کر چکرا گئی۔ اس کے بعد اس نے میرے ساتھ جنسی زیادتی کی جس میں میری کلائی میں کانچ کی چوڑیاں احتجاجا ٹوٹتی چلی گئیں۔ میری کلائیوں میں بھی کانچ کے ٹکڑے پیوست ہوئے۔ جیسے جیسے میں اذیت میں تڑپتی جاتی اسے سرور ملتا۔ شاید اس کی مردانگی کے معیار بستر تک ہی تھا۔ جس وقت میں اپنے جسم پر خراشیں گنتے ہوئے سسک رہی تھی وہ اپنی مردانگی کا ثبوت پیش کر کے خواب خرگوش میں سو رہا تھا۔

دوسری لڑکی:
کاش میرے والد حیات ہوتے۔ وہ زندہ ہوتے تو شاید میری شادی ایسے حالات میں نہ ہوتی۔ میں نہیں جانتی وہ کون ہے۔ کیا کرتا ہے۔ مجھے بس بھیا نے بتا دیا کہ میری نسبت طے ہو گئی ہے۔ ہاں تصویر بھی دکھائی تھی۔ کچھ دنوں بعد اپنی بہنوں کے وساطت سے اس لڑکے نے مجھ سے رابطہ کیا۔ کہنے لگا میں تم سے شادی اپنی والدہ کی مرضی سے کر رہا ہوں مگر میں اپنی پسند کی شادی بھی کروں گا۔ میں نے کہا کہ اگر ایسی کوئی مجبوری ہے تو مجھے بتا دیں۔ آپ انکار کر دیں یا میں منع کر دیتی ہوں۔ اس نے تو انکار نہیں کیا بلکہ وہ تو بضد تھا جیسے کہ اس نے مجھ سے ہی شادی کرنی ہے۔ میں نے والدہ کے ذریعے بھائی کو یہ بات بتائی اور انکار کر دیا۔ میری کیا جرات کہ میں انکار کروں۔ بھائی کے تھپڑ نے مجھے میری اوقات یاد کروا دی۔
بابا نے کچھ زمین ہم بہنوں کے نام رکھ چھوڑی تھی۔ بھائیوں کا اصرار تھا کہ ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں۔ تمہاری شادی ہم کروا رہے ہیں اس لئے وہ زمین ہمیں لکھ دو۔ کافی کوشش کی یہ معاملہ کہیں بھول بھلیا میں کھو جائے۔ مگر ایسا نہ ہوا۔ ایک طرف زندگی تھی اور ایک طرف زمین۔ بابا نے کچھ بھی سوچ کر وہ زمین ہمارے نام کی ہو مگر وہ سوچ منوں مٹی تلے جا سوئی تھی۔

تیسری لڑکی:
میٹرک کر لی ہے اب آگے پڑھ کر کیا کرنا ہے۔ مجھے پتہ ہے کالج میں لڑکیاں فیشن اور بے غیرتی سیکھنے جاتی ہیں۔ پڑھ لکھ کر کون سا تیر مار لینا ہے۔ یہ سب باتیں سنانے کے بعد میرا چار دیواری سے نکلنا بند کر دیا گیا تھا۔ میں اب جوان ہو گئی ہوں اور مجھے گھر کے اندر ہی رہنا ہے۔ کوئی اچھا رشتہ دیکھ کر میری شادی کر دینی ہے۔نہ بھائیوں نے حمایت کی نہ اماں کچھ بولی۔
پتہ نہیں کس مٹی کی بنی ہوں مگر ہوں ذرا ڈھیٹ۔ اتنی سے عزت افزائی تو معمول کی بات ہے۔ کسی سہیلی کے ذریعے پرائیوٹ انٹر میڈیٹ کا داخلہ کروایا۔ بچوں کو ٹیوشن پڑھا کر جو چار پیسے بچتے وہ اپنی کتابیں اور پڑھائی کا سامان لے آتی۔ گھر کے کام کاج کے بعد دو منٹ ملتے تو پڑھائی بھی کر لیتی۔ اردو تو سمجھ آ جاتی مگر انگلش کون پڑھائے۔ کچھ سمجھ نہیں آتی۔ نمبر تو کم ہی ہیں مگر جیسے تیسے کر کہ انٹر میڈیٹ کر لیا۔
بی اے کا داخلہ بھجوا دیا اور کتابیں بھی خرید لی۔ نہ جانے خدا کو کیا منظور تھا۔ انہی دنوں میرے ناک سے خون آنے لگا۔ نکسیر سمجھ کر زیادہ توجہ نہیں دی۔ مزید کچھ دنوں تک سینے میں درد بھی ہونے لگا۔ ایک دن خالہ نے دیکھ لیا تو ڈاکٹر کے پاس لے گئی۔ ڈاکٹر نے کچھ ٹیسٹ بتائے۔ کچھ پیسوں کا بندوبست تو خالہ نے خود سے کر لیا اور جو مزید چا ہئے تھے اس کے لئے میرے بھائی کو فون کر دیا۔
میرا بیمار ہونا تو بس ایک بہانہ تھا۔ میری پڑھائی اپنے جمع کئے ہوئے پیسوں سے جاری تھی۔ اس موقع پر ایک طرف بھائیوں کو میری پڑھائی والی فضول خرچی ستانے لگی اور دوسری طرف میری بیماری کو لڑکیوں کا ڈرامہ کہہ کر ہنسی میں اڑا دیا۔ میری پرائیوٹ پڑھائی پر پابندی کے ساتھ میرے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے لئے میرا شادی طے کر دی۔

حرف آخر:
لکھنے کو بہت کچھ ہے، ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں خواتین کا استحصال کرنے کے باوجود ہمارے معاشرے کے مرد بضد ہیں۔ ان کا فلسفہ بہت آسان ہے کہ اپنی مردانگی کے ثبوت کے طور پر اپنے ارد گرد کی خواتین کو دبا کر رکھا جائے۔ یہاں عورت کے کردار کو سراہنے کے بجائے ان کی کردار کشی کرنا اپنا فرض سمجھا جاتا ہے۔ عورت کو جواز فراہم کرنے کا موقع بھی دینا گوارا نہیں کیا جاتا۔ آپ نے کتنی دفعہ کچن میں جا کر اپنی والدہ یا بہن کا ہاتھ بٹایا ہے؟ بیوی اور بہن کو چھوڑیں ایک طرف، کبھی اٹھ کر اپنی والدہ کو پانی پیش کیا ہے؟ ان کی رائے کو احترام کی نظر سے دیکھا ہے؟ کس جنت اور کس اسلام کی بات کرتے ہیں۔ اسلام تو یہ کہتا ہے کہ تم میں سے بہتریں شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے بہتر ہے۔
میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اگر سب بیٹے، بھائی، شوہر اور باپ اپنے گھر کی خواتین کو عزت اور محبت دیں تو کوئی لڑکی اپنی چار دیواری کی جنت چھوڑ کر سڑکوں پر نہیں آئے گی۔

Continue reading this series:

Categories: DiaryGeneral

1 Comment

دوسرا حصہ: گلی سڑی لاش - Tahir Shahzad · April 3, 2018 at 1:57 pm

[…] پہلے اگر آپ اس سلسلے کی پہلی کڑی پڑھنا چاہتے ہیں تو اس لنک پر دیکھیں۔ کچھ حقیقی واقعات کو کہانی کے انداز میں بیان […]

Comments are closed.

%d bloggers like this: