آج منگلا بند کے بارے میں جاننے کا موقع ملا۔ منگلہ بند کے آبی ذخائر، پانی کے بہائو اور بجلی کی پیداوار کے متعلق علم میں اضافہ ہوا۔
منگلہ بند کی بنیاد ساٹھ کی دہائی میں رکھی گئی جبکہ یہ بند ۱۹۶۷ سے فعال ہے۔ یہ دنیا کا ساتواں بڑا بند ہے اور پانی کے ذخائر کے لحاظ سے ۲۰۰۳ سے پاکستان کا سب سے بڑا بند ہے۔ اس میں ۱۰ ٹربائن ہیں جن میں سے دو مرمتی مراحل میں ہیں۔ ہر ایک ٹربائن ۱۰۰ میگا واٹ بجلی پیدا کرتا ہے۔ ۱۵ فیصد اضافی بوجھ کے ساتھ منگلہ ڈیم ۱۱۵۰ میگا واٹ بجلی قومی دھارے میں شامل کرتا ہے۔

منگلہ ڈیم کا فضائی منظر

منگلہ بند سے حاصل کئے جانے والے مقاصد میں سب سے اہم پانی کا ذخیرہ کرنا اور کاشتکاری کے لئے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ یہی پانی جب بجلی گھر سے گزرتا ہے تو پوٹینشل توانائی کو میکینکل توانائی میں تبدیل کرتا ہے جو کہ ٹربائن اور جنریٹر چلانے کے کام آتی ہے۔

ٹربائن اور جنریٹر کی روایتی تصویر

جہاں بڑی بڑی مشینری انسان کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتی ہیں وہیں منگلہ بجلی گھر کی ایک خاص بات وہاں موجود صادقین کی پینٹنگ ہے۔ “مرال” کی لمبائی ۱۷۰ فٹ اور چوڑائی ۲۳ فٹ ہے۔ اس آرٹ کو مختلف حصوں میں بنا کر یکجا کیا گیا ہے۔اس آرٹ میں انسان کی انتھک محنت کو دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ پینٹنگ ایک مکمل سفر ہے جس کے آغاز میں فرہاد کے تیشے کی ضرب کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ہم ہر دور کے انسان کی گاریگری کو دیکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں جس میں انسان کی صلاحیتوں اور اس کے تہذیب و تمدن پر اثرات کے دیکھتے ہیں۔ آخری حصہ اقبال کے فلسفے “ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں” کے زیر اثر انسان کی اڑان پیش کرتا ہے۔ “مرال” پر ایک مصرعہ درج ہے “آفتاب تازہ پیدا بطن گیتی سے ہوا” جو دلالت کرتا ہے کہ صادقین نے اپنے ہنر میں علامہ اقبال کے اثرات بھی سمو دئیے ہیں۔

عالمی معیار کو سامنے رکھتے ہوئے یہ مشینری ۳۰ سال میں تبدیل کر دینی چاہئے جسے ہم ۵۰ سالوں سے استعمال کر رہے ہیں۔ اگرچہ کہا یہ جاتا ہے کہ اسے جدید ٹیکنالوجی سے ہمکنار کیا جائے گا مگر ایسا ہوتا مستقبل قریب میں نظر نہیں آتا۔ تمام یونٹ اور کنٹرول روم ابھی تک ۱۹۶۰ کی روایتی ٹیکنالوجی کے اصولوں کے تحت کام کر رہے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ ہم جدید دور کی ٹیکنالوجی کے استعمال میں بہت دیر کردیں گے۔