This post is part of the series حوا کی بیٹی

میں حیران بھی ہوں اور پریشان بھی۔ حیران اور پریشان ہونے کی وجہ پر جانے سے پہلے اگر آپ اس سلسلے کی پہلی کڑی پڑھنا چاہتے ہیں تو اس لنک پر دیکھیں۔ کچھ حقیقی واقعات کو کہانی کے انداز میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ مقصد صرف اتنا ہے کہ اپنے معاشرے کی برائیوں کے حوالے سے کچھ آگہی پیدا کی جا سکے اور ان برائیوں کا سدباب کیا جا سکے۔

میرے حیران ہونے کی وجہ ریلی میں نکلنے والی خواتین ہیں اور ان کا انداز ہے۔ بلا تفریق مرد و زن، مذہب اور تہذیب و تمدن ہر معاشرے میں اچھے اور برے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ ان کا تناسب معاشرے کے اجتماعی رویہ کی وجہ سے کم یا زیادہ ہو سکتا ہے مگر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کے کسی معاشرے میں فلاں طبقہ، فلاں صنف، فلاں مذہب کے تمام لوگ اچھے یا برے ہیں۔
ریلی پر نکلنے والی خواتین پڑھی لکھی معلوم ہوتی ہیں۔ ان کا موقف اس حد تک درست بھی ہے کہ خواتین کا استحصال اب رک جانا چاہئے مگر ان کی تعلیم کا اثر ان کی ریلی میں بھی ہوتا تو یقینا ایک بڑی تعداد جو آج ان پر نکتہ چینی کر رہی ہے ان کے ساتھ کھڑے ہو کر لبیک کہتی۔ ان کے انداز میں ایک چبھن تھی۔ ایک ایسی چبھن جو اس عورت کو محسوس ہوئی جو اپنی مرضی سے گھر داری کرنا چاہتی ہے اور آپ اسے گلی سڑی لاش کہہ کر مخاطب کرتی ہیں۔
بانو قدسیہ کی مثال ہی سامنے رکھ لیں۔ وہ ایک موثر لکھاری تھیں۔ ان کا فلسفہ ایک بلند سطح پر نظر آتا ہے جسے میں احاطہ تحریر میں لانے سے قاصر ہوں مگر بانو قدسیہ نے کاروباری دنیا کے مقابلے میں چار دیواری کا انتخاب کیا۔ سر پر دوپٹہ اوڑھنے سے ان کے ہنر پر کوئی پردہ نہیں پڑا۔ مشرقی انداز و اطوار اپنانے سے ان کی قدر و منزلت میں کوئی کمی نہیں آئی۔
میری حیرانی میں مزید اضافہ اس وقت ہوتا ہے جب میں پڑھتا ہوں کہ “اپنا کھانا خود گرم کر لو”۔ یہ بینر ایسی خواتین نے اٹھا رکھے ہیں جن کی خدمت میں ہر وقت خادمائیں /ملازمائیں موجود رہتی ہیں۔ سودا سلف لانے کے لئے خادمہ کے بیٹے اور بیٹیاں بھی دستیاب ہیں۔ بیگم صاحبہ کے لئے یہ بنا دو، ان کے بیٹے کے لئے فلاں چیز لاا دو۔ اور بیگم صاحبہ کی اترن مل جائے تو الحمد اللہ وگرنہ کبھی پیسے ضرورت ہوں تو جھڑکیاں۔ ایسی خواتین بھلا کسی مطلب کے بغیر کسی کو کھانا گرم کر کے دے سکتی ہیں؟ آپ کے گھر میں کام کرنے والی بھی ایک عورت ہے۔ کبھی سوچ لیں کہ شاید وہ تھک گئی ہے اور اپنا کھانا خود گرم کر لیں۔
بات خواتین کے حقوق کی ہو رہی ہے یا اشرافیہ کی خواتین کے حقوق کی؟ ہمارے معاشرے میں عام خواتین کو جن مشکلات کا سامنا ہے ان کا تصور بھی ریلی والی خواتین کے لئے محال ہے۔ روزانہ سوزوکی اور لوکل ٹرانسپورٹ کے دھکے کھا کر جس طرح مزدور خواتین کام پر جاتی ہیں وہ اے سی میں ڈرائیور کے ساتھ جانے والی خاتون کیا جانے؟ برگر کھانے والی لڑکی اس بات پر بھڑک جاتی ہے کے اس کی والدہ نے اتنا بھی کیوں پوچھا کہ اسے کتنے پیسے چاہئے؟ کیا انہیں اعتماد نہیں ہے اپنی لڑکی پر؟ بلینک چیک کیوں نہیں دے دیتی؟ جبکہ شہر کی عام لڑکی نے اگر صبح پڑھنے جانا ہے تو شام کو کپڑے سلائی کر کے یا بچوں کو پڑھا کر اپنی فیس کے پیسے بھی جمع کرنے ہیں۔ دیہات کی ٰعام خواتین کو تو یہ سہولت بھی میسر نہیں۔ خدارا بات کرنی ہے تو ٰعام خاتون کی بات کریں۔ کوئی حق چاہئے تو عام خاتون کو چاہئے۔ کسی کی داد رسی کرنی ہے تو عام خاتون کی کیجئے۔ میڈیا کوریج حاصل کر کے مقبول ہونے والوں کا نام کل کوئی بھی نہیں جانے گا مگر پروین سعید جیسی خواتین کے نقش قدم پر چلنے سے ہر کوئی فخر محسوس کرے گا/گی۔

میری پریشانی کا سبب یہ معاشرہ ہے اور اس معاشرے میں مرد کا کردار ہے۔ جیسی ہی کچھ خواتین آواز اٹھاتی ہیں تو اسلام کے نام کی تلوار لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ہر طرف سے فتووں کے انبار لگ جاتے ہیں اور رہی سہی کسر گالم گلوچ سے پوری کی جاتی ہے۔ اسلامی احکام سنانے والوں سے گزارش ہے کہ اسلامی ریاست کا عملی نمونہ بھی پیش کریں۔ کیونکر آئے روز اس معاشرے میں خواتین کا استحصال ہوتا ہے؟ آخر کیونکر اس معاشرے میں لڑکیا ں اغوا ہوتی ہیں؟ کیونکر دشمن عناصر کو موقع ملتا ہے کہ وہ تیزاب کے واقعات کو اپنے میڈیا کی زینت بناتے ہیں؟ کیونکر زیادتی کے واقعات میں کمی نہیں آتی؟
اسلامی معاشرہ تو ایسا ہو کہ اگر ایک عورت سلطنت کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک تنہا چلے تو اسے کوئی خطرہ نہ ہو۔ کیا واقعی ایسا معاشرہ ہے؟ اگر کوئی لڑکی سائیکل چلا رہی ہے تو ااسے گھورنے کا حق آپ کو کس نے دیا؟ اگر کوئی خاتون ہراساں کئے جانے کے واقعے پر سوال اٹھاتی ہے تو بجائے ملزم کا احتساب کرنے کے اسی خاتون کی کردار کشی کیونکر ہو رہی ہے؟ اگر کوئی خاتون جیز پہن کر باہر نکلتی ہے تو آپ کو زیادتی کرنے کا اختیار کس نے دیا؟
مجھے پریشانی ہے ایسی مردانگی سے جو عورت کو زیر کئے بغیر ثابت نہیں ہوتی۔ ہمارے معاشرے نے ایسے مرد پیدا کئے ہیں جو گالم گلوچ کر سکتے ہیں مگر اپنی نگاہوں کی حفاظت نہیں کر سکتے۔ لمحہ فکریہ تو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں مرد کے جرم کے جواز میں عورت کی کردار کشی معمول بنتی جا رہی ہے۔ ان سب برائیوں کے بعد جب کچھ خواتین آواز اٹھاتی ہیں تو بجائے معاشرے کی اصلاح کرنے کے انہی خواتین پر تیر اندازی کی جاتی ہے۔
میری ذاتی رائے صرف یہ ہے کہ اگر ہم ایک اسلامی معاشرے کا نمونہ پیش کریں تو ہماری خواتین بلا خوف و خطر روز مرہ کے امور سر انجام دینے کے قابل ہوں گی۔ پھر کوئی اس طرح کے بینر اٹھا کر بنیادی حقوق طلب نہیں کرے گا اور نہ ہی معاشرے کی بے راہ روی پر طمانچہ پڑے گا۔ ہمارے خواتین کو کوئی گلی سڑی لاش نہیں کہے گا۔

Continue reading this series:

%d bloggers like this: