اسلام کے چوکیدار

اسلام کے چوکیدار

جوحق سے کرے دور ،وہ تدبیربھی فتنہ
اولاد بھی، اجداد بھی، جاگیر بھی فتنہ
ناحق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر ہی کیا نعرہ تکبیر بھی فتنہ
شاعر: سرفراز بزمی فلاحی

سب سے پہلے جرم کی پہچان کی جانی چاہئے۔ ناموس رسالت کی حد کن صورتوں میں نافذ کی جانی چاہئے اور کن صورتوں میں نہیں۔ کیونکہ اگر ہم اس کی پہچان نہیں کریں گے تو عین ممکن ہے کوئی شخص یا گروہ کسی بے گناہ کو ناموس رسالت کے نام پر قتل کر دے، عین ممکن ہے کے اسلام کے نام پر فتنہ و فساد برپا کیا جائے، دل کی خلش اور انتقام کے طور پر اسے استعمال کیا جائے اور عین ممکن ہے کے کسی سازش کو پنپنے کا موقع دیا جائے۔

اگر دو فریق ہیں تو دونوں میں سے کوئی ایک، دوسرے پر ناموس رسالت کا الزام عاید کر دے اور دوسرا اس کا اقرار کرے کسی دباؤ کے بغیر، جیسا کے باغی ہو جانے والے لوگ کرتے ہیں تو ایسے شخص پر حد نافذ کرنی چاہئے۔

اگر کوئی شخص اپنے حوش و حواس میں رہتے ہوئے ناموس رسالت کی توہین کرے تو اس پر حد نافذ کرنی چاہئے۔ مثلا پاگل پر حد نافذ نہیں کی جانی چاہئے۔

اگرایک مسلمان فریق دوسرے غیر مسلم فریق کی مذہب کی توہین کرے اور جوابا غیر مسلم فریق غصے یا جذبات میں آکر کوئی کلمہ ادا کر دے تو حد مسلمان فریق پر نافذ کرنی چاہئے۔

اگر جرم کیا ہو یا نہ کیا ہو، مگر ایک جم غفیر قتل پر آمادہ ہے تو ایسے میں ناکردہ گناہ کا اقرار کر کے معافی مانگنے میں عافیت ہو تو ایسے واقعے میں موجود لوگوں کو بطور گواہ اور اس واقعے کو جرم کی صحت کے حوالے سے پیش نہیں کیا جا سکتا۔

اگر کوئی شخص غلطی سے علم نہ ہونے کے باعث ایسا فعل کر بیٹھے جس سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچے اور علم ہو جانے پر معافی کا خواستگار ہو تو اسے معاف کر دینا چاہئے۔

تمام حقائق کے پیش نظر حد نافذ کرنے کا حق صرف اور صرف ریاست کو حاصل ہے۔ کوئی شخص یا گروہ انفرادی حیثیت میں حد نافذ نہیں کر سکتا۔

اگر ریاست نے غلط فیصلہ کر دیا ہے تو اس کا سوال ریاست کے ذمہ داران سے ہو گا۔ چونکہ ریاست آپ کی رعایا نہیں ہے اس لئے آپ پر نہ تو کوئی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور نہ گناہ۔

کلکم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ”
ترجمہ: تم میں سے ہر شخص حکمران ہے، اس سے اسکی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا

ریاستی فیصلے سے اختلاف کے دو راستے ہیں۔ پہلا راستہ ہجرت جیسا کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اختیار کیا اور بعد میں حضرت حسین نے بھی اسی سنت پر عمل کیا۔
دوسرا راستہ پر امن رہتے ہوئے اس صحیح فیصلے کی تبلیغ کرنا اور ایسے لوگوں کا چناؤ کرنا جو ریاستی امور میں صحیح فیصلے سر انجام دے سکیں۔

ملک و قوم میں اجماع سے گریز کرنا، تحقیق کے راستے مسدود کرنا، قانونی ذرائع استعمال نہ کرنا، خانہ جنگی کی صورتحال پیدا کرنا، اسلام کے نام پر عورتوں، بچوں کو یرغمال بنانا، ریاستی امور کی مخالفت میں اپنی ہی املاک کو نقصان پہنچانا اور راستے بند کرنا ہر صورت میں اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔

بلا عنوان

بلا عنوان

نوٹ: یہاں کچھ وجوہات کی بنا پر میں استانی کا اصل نام نہیں لکھ رہا۔

قلم کی پرواز دکان سے شروع ہوئی اور اڑتا ہوا سڑک کے بیچ میں جا لگا۔ جو بچہ قلم لے کر آیا تھا وہ سہم کر دو قدم پیچھے ہٹ گیا۔ غصہ سے بزرگ کی نسیں پھولنے لگیں اور چنگھاڑتی ہوئی آواز میں بچے کو خبردار کیا کہ آئندہ شمسہ کا قلم لانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بچے نے قلم اٹھایا اور وہاں سے بھاگ گیا۔
سڑک کے ایک طرف دوکانیں تھیں اور دوسری طرف رہائشی گھر تھے۔ انہیں گھروں میں سے ایک کھڑکی میں ہلکی سی درز تھی جس میں سے نوجوان لڑکی جھانک کر باہر کا منظر دیکھ رہی تھی۔ لڑکی کی نظریں اس بچے کے تعاقب میں تھی جو ابھی ابھی اس کے گھر سے نکلا تھا اور سڑک کے پار ایک دوکان میں داخل ہو گیا۔ لڑکی کو کچھ سمجھ نہ آئی کے دکان میں پہلے سے موجود بزرگ اور بچے کے درمیان کیا گفتگو ہو رہی ہے۔
آڑتے ہوئے قلم اور بزرگ کے انداز میں جھلاہٹ سے لڑکی نے یہی اندازہ لگایا کہ بزرگ نے پوچھا ہو گا کہ یہ قلم کس کا ہے اور بچے نے کہا ہو گا شمسہ باجی کا۔ شمسہ باجی کا قلم سنتے ہی بزرگ کا غصہ عروج پر پہنچ گیا اور قلم کو خاک چٹوادی۔ شمسہ کو پڑھنے کی اجازت نہیں تھی ۔ اس کے ابا یہی سوچتے تھے کہ بھلا یہ لڑکی پڑھ کر کیا کرے گی۔ لڑکیوں کو پڑھنا نہیں چاہئے بلکہ گھر داری سیکھنے چاہئے۔
شمسہ نے کھڑکی کو مکمل بند کیا۔ کھڑکی بند کرتے ہی جیسے اس کا دل بھی کسی پنجرے میں قید ہو گیا ہو۔ ایک لمحے کے لئے اسے اپنا وجود لاغر نظر آنے لگا۔ جیسے اس کی ٹانگیں اپنے ہی وجود کا بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیں گی۔ شمسہ دیوار کے سہارے کھڑی ہو گئی اور سارے واقعے کا احاطہ کرنے لگی۔ جب شمسہ کا دل گھبرانے لگا اور سوچیں طویل ہونے لگیں تو آنسو غلبہ پانے لگے۔ اگلے ہی لمحے میں ایک معصوم سے قطرہ شمسہ کے گالوں پر سرکنے لگا۔ یہ فیصلے کا وقت تھا۔
شمسہ نے بے دردی سے اپنے آنسو کو پونچھا اور ہار نہ ماننے کا اٹل فیصلہ کیا۔ شمسہ نے ہار اس وقت بھی نہیں مانی جب اس کے پاس کتاب نہیں تھی اور سکول میں نئی آنے والی استانی سے اسے سبق پڑھنے کو کہا۔ شمسہ نے جھٹ سے ساتھ والی لڑکی سے کتاب پکڑی اور آج کا سبق نکالنے لگی۔ یہ سب کچھ استانی دیکھ رہی تھی۔ طالبات کی طرف سے ایسی بے قاعدگی نا قابل برداشت تھی۔ استانی نے ایک زناٹے دار تھپڑ شمسہ کےگال پر جڑ دیا۔ یہ سزا تھی کتاب ساتھ نہ لانے کی۔
وہ لڑکی جو ایک کتاب نہیں خرید سکتی تھی۔ وہ لڑکی جس کے قلم میں دوات کی سیاہی کے ساتھ والد کا غصہ شامل تھا۔ اس جیسی بے شمار مشکلات کے باوجود انہوں نے امتیازی نمبروں سے امتحان میں کامیابی حاصل کی۔ سزا دینے کے بعد استانی کو شمسہ کے حالات کا علم ہوا تو دوبارہ سزا نہیں دی۔
محترمہ شمسہ جب یہ واقعات سنا رہی تھیں تو میں سامنے طالب علم کی حیثیت سے بیٹھا تھا اور جنابہ ایک معتبر اسکول میں استانی کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دے رہی تھیں۔ میں نے ان جیسی شفیق اور مہربان استانی نہیں دیکھی۔ آج بھی جب ان کا چہرہ خیالوں میں دیکھتا ہوں تو مامتا کی محبت نظر آتی ہے۔ ان کے طلبا و طالبات کے لئے ریاضی کے علاوہ عام زندگی میں بھی ان کا کردار مشعل راہ ہے۔

آخری حصہ:  خود کھانا گرم کر لو

آخری حصہ: خود کھانا گرم کر لو

حوا کی بیٹی کا جو سلسلہ شروع کیا تھا اس کی آخری کڑی ” خود کھانا گرم کر لو” کے عنوان کے ساتھ اس سلسلے کو آگے بڑھانے سے پہلے ایک چھوٹی سی کہانی پیش کرتا ہوں۔ یہ کہانی میرا قیاس ہے اور ہو سکتا ہے ہر بحرف سچ یا جھوٹ ہو مگر اس کہانی کے سہارے میں اپنی بات آگے بڑھا سکوں گا۔

زمانہ قدیم کا انسان:
بات اس وقت کی ہے جب انسان کو شعور عطا ہوا۔ اسے فرق کرنے کی صلاحیت دی گئی اور انسان دو چیزوں کے درمیان موازنہ کرنے کی صلاحیت استعمال کرنے لگا۔ انسان کو بھوک بھی محسوس ہوئی اور اس نے پیٹ کی آگ بجھانے کے نت نئے طریقے بھی دریافت کئے۔ انسان نے محوس کیا کہ درختوں کے پتے کھانے کے بجائے ان پر لگے پھول اور پھل زیادہ لذیذ ہیں۔ انسان نے دیکھا کہ وہ دوسرے جانداروں کو چیر پھاڑ کر اپنی خوراک کا حصہ بنا سکتا ہے۔ اور انسان نے یہ بھی دیکھا کے طاقت کے معاملے میں کچھ انسان بہتر ہیں، زیادہ وزن اٹھا سکتے ہیں اور لڑائی کے دوران زیادہ کاری ضرب لگا سکتے ہیں۔
مجھے گمان ہے کہ جس وقت انسان اپنے پیٹ کا ایندھن بھرنے کے نت نئے طریقے دریافت کر رہا تھا اس سے بہت پہلے افزائش نسل کے طور طریقوں سے واقت ہو چکا تھا۔ اور نومولود کی پرورش کی ذمہ داری سے بھی آشنا تھا۔ اس سب کے دوران انسان نے یہ بھی جان لیا کہ جوڑے میں سے ایک فریق زیادہ مشقت اٹھا سکتا ہے۔ وہ فریق مرد ٹھہرا۔ غیر محسوس طریقے سے مرد کی ذمہ داری یہ ہوئی کہ دوسرے جانوروں کا شکار کرے اور وزن اٹھائے۔
جب مرد نے نان نفقہ کی ذمہ داری اٹھا لی تو یقینا وہ شکار کے دوران زخمی بھی ہوتا ہو گا، وزن اٹھانے کے بعد تھک بھی جاتا ہو گا۔ ایسے میں دوسرے فریق نے سوچا ہو گا کہ وہ شکار میں تو حصہ نہیں لے رہا تو کیوں نہ وہ مرد کی تیمار داری کرے۔ جو شکار ہو لایا ہے اسے پروسنے میں مرد کی مدد کرے اور مرد کی غیر موجودگی میں اپنے نومولود کا خیال رکھے۔ ایک غیر محسوس طریقے سے اس فریق کی پہچان عورت کے طور پر ہوئی۔
مجھے اپنی یہ کہانی نا مکمل نظر آتی ہے۔ مرد اور عورت کے ذمہ داریاں بانٹنے کا مقصد مل جل کر ایک اجتماعی مقصد کا حصول تھا۔ میرے خیال میں تصویر کا ایک اور رخ بھی تھا۔ تصویر کے دوسرے رخ میں عورت کبھی درد میں مبتلا ہوئی ہو گی تو اس رات کو مرد نے ہی شکار کو پکایا ہو گا۔ تصویر کے دوسرے رخ میں کسی عورت کے ساتھ کا مرد زیادہ زخمی ہوا ہو گا اور عورت نے شکار کی اپنی سی سعی کی ہو گی۔ اس مقام پر پہنچ کر یہ کہانی شاید حقیقی نہ لگے لیکن مجھے منطقی ضرور لگتی ہے۔

انسان کا ارتقا:
انسان نے وقت کے ساتھ ارتقا کیا۔ وہ جنگلوں سے نکل کر شہر بسانے لگا۔ روزمرہ کے امور میں آسانیاں پیدا کرنے لگا۔ نت نئے تجربات کے ذریعے اپنے ماحول میں موجود چیزوں کو تسخیر کرنے لگا۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی وجود میں آتے گئے۔ اور دونوں فریق جو مرد اور عورت کے روپ میں نظر آتے ہیں نے مختلف ذمہ داریاں سنبھال لی۔ کہیں مرد کے کام میں عورت کی کمی محسوس ہوئی اور کہیں عورت کی ذمہ داری میں مرد کے رائے نے دخل اندازی کی۔
اس تمام ارتقا کے باوجود مرد اور عورت میں زمانہ قدیم کا انسان بیٹھا ہے۔ وہ انسان جس نے اپنی ذمہ داریاں بانٹ لی تھی۔ یہاں تک ٹھیک تھا لیکن سماج کا پلڑا ایک طرف اس وقت جھکنے لگاجب کچھ کم فہم انسانوں نے ایک دوسرے کی ذمہ داری کو ان کی پہچان بنا دیا۔ عورت بھی ایک انسان ہے۔ عورت کس طرح گوارا کر سکتی ہے کہ جو صدیوں سے مرد کے شانہ بشانہ چلتی رہی ہے اسے عزت، مقام اور مرتبے میں کم سمجھا جائے۔ اور مرد جو اپنے کندھوں پر بوجھ اٹھا رہا تھا اس نے سوچا کہ عورت بنیادی ضروریات زندگی کے لئے اس کی محتاج ہے لہذا وہ اپنی من مانی کر سکتا ہے۔

دور حاضر کا انسان:
دور حاضر تک پہنچتے پہنچتے انسانی وجود کے دونوں فریق آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ ایک مقابلے کی فضا ہے جس میں ایک طرف عورت ہے جو خراج وصول کرنا چاہتی ہے ان صدیوں کا جو اس نے مرد کے حصار میں گزار دئیے۔ دوسری طرف مرد ہے جو عورت کو محتاج دیکھنا چاہتا ہے۔ یہاں کچھ لوگ اعتراض کریں گے کہ سب مرد ایسے نہیں۔ جی ہاں، سب مرد ایسے نہیں اور ایسے مردوں کی تعداد آٹے میں نمک سے بھی کم ہے۔
کچھ اقوام نے اس حد تک عورت کو اپنا لیا ہے کہ اگر خواتین کچھ کرنا چاہتی ہیں تو یہ ان کی اپنی مرضی ہے۔ یہ خوش آئند ہے کہ تعلیم، صحت، نوکری، شادی وغیرہ کے جو بنیادی حقوق جو مردوں کو حاصل ہیں وہی عورت کو بھی حاصل ہیں۔ تیسری دنیا میں عورت کو جو مسائل ہیں اور جن حقوق کا طلب کرنا اس کا گناہ شمار ہوتا ہے وہ لا تعداد ہیں۔ ایک لمحہ کے لئے ان سے نظر ہٹا کر ترقی یافتہ اقوام کی طرف دیکھ لیں تو وہاں بھی آج تک عورت کی تنخواہ مرد سے کم ہے۔ عورت کو ووٹ دینا برا سمجھا جاتا ہے اور عورت کو راہ چلتے میں آوازے کسے جاتے ہیں۔
انا کی جنگ اور ظاہری برتری کے حصول میں ہم مرد اور عورت کا کردار بھول گئے۔ ہم کچھ کاموں کو ہی مرد اور عورت کا اصل سمجھنے لگے جبکہ مرد اور عورت کا وجود ایک دوسرے کے شانہ بشانہ چلنے کے لئے ناگزیر ہے۔ ایک سماج کی کامیابی یا ناکامی کا دارومدار دونوں کی مشترکہ کامیابی میں پوشیدہ ہے۔

حرف آخر:
مرد و عورت کی ٹسل میں افسوس اس وقت ہوتا ہے جب ایک عورت اس لئے قتل کر دی جاتی ہے کہ وہ وقت پر کھانا گرم کر کے نہیں دے سکی۔ ایک لڑکی سے پورا گھر اس لئے ناراض ہو جاتا ہے کہ صبح بھائی دیر سے جاگا اور کھانا کھائے بغیر اسکول گیا ہے۔ یہ ایک نامکمل سماج کی علامت ہے اور لمحہ فکریہ ہے۔ ایسے وقت میں اگر کوئی خاتون بینر پر یہ درج کرتی ہے کہ “کھانا خود گرم کر لو” تو وہ کم از کم گالم گلوچ کی حقدار نہیں ہے۔ دور قدیم کا مرد اس لحاظ سے بہتر تھا کہ وہ نان نفقہ کے ساتھ ساتھ عورت کی حفاظت کےلئے بھی چوکنا رہتا تھا۔ آج کا مرد اس وقت چپ ہو جاتا ہے جب ایک عورت کو وڈیرے برہنہ کر کے گلیوں گلیوں گھماتے ہیں۔ ایک مرد کے گناہ کی سزا میں عورت کو قربانی کا بکرا بنا دیا جاتا ہے۔
ایک خاتون اگر کھانا لانے میں ذرا سی تاخیر کر دے تو پہلا جملہ “تم سارا دن کرتی کیا رہتی ہو”، کھانے میں مسالے اوپر نیچے ہو گئے تو “ابھی تک کھانا بھی بنانا نہیں آیا”۔ انسان ہیں دیر سویر ہو جاتی ہے، غلطی بھی ہو جاتی ہے اور کمی بیشی بھی ہو جاتی ہے۔ مردانگی تو یہ ہے کہ ایسے موقع پر صبر کیا جائے اور اپنے گھر کی خواتین کا ہاتھ بٹایا جائے نہ کہ ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر گلا پھاڑ کر لعن طعن کی جائے۔
میرا مقصد یہ ہے کہ مرد اور عورت ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہونے کے بجائے ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔ ایک دوسرے کی مدد کریں اور جہاں غلطی ہو جائے درگزر کیا جائے۔ ظلم و تشدد اور انتہا پسندی چاہے کسی بھی فریق کی طرف سے ہو وہ غلط ہے۔
خواتین کو بھی ریلی نکالنے سے پہلے اس چیز کو سوچنا چاہئے کہ ہم ایک اجتماعی بیانیہ نہیں دے سکتے کہ مرد کو یہ کرنا چاہئے یا عورت کا یہ کردار ہونا چاہئے۔ آج سے تمام مرد اپنا کھانا خود گرم کریں گے یا تمام خواتین اپنی روزی روٹی خود کمائیں گی۔ جب ایک مزدور باپ گھر میں داخل ہوتا ہے تو بیٹی پانی پلا دے، کھانا گرم کر دے تو یہی خاندانی نظام کا حسن ہے۔ اور جب ظالم بھائی اپنی بہن پر ناجائز حد لگائے یا اس پر ہاتھ اٹھائے تو بلا تفریق مرد و زن اسے برا کہنا چاہئے۔ جب محبت کرنے والا شوہر کہے کے میرے کپڑے استری کر دو تو اس میں کوئی عار نہیں اور جب لاڈ اٹھانے والی بیوی کہے کہ آج کھانا باہر سے لے آئیں تو اس میں انا کو سر پر چڑھانے والی کوئی بات نہیں۔

دوسرا حصہ: گلی سڑی لاش

دوسرا حصہ: گلی سڑی لاش

میں حیران بھی ہوں اور پریشان بھی۔ حیران اور پریشان ہونے کی وجہ پر جانے سے پہلے اگر آپ اس سلسلے کی پہلی کڑی پڑھنا چاہتے ہیں تو اس لنک پر دیکھیں۔ کچھ حقیقی واقعات کو کہانی کے انداز میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ مقصد صرف اتنا ہے کہ اپنے معاشرے کی برائیوں کے حوالے سے کچھ آگہی پیدا کی جا سکے اور ان برائیوں کا سدباب کیا جا سکے۔

میرے حیران ہونے کی وجہ ریلی میں نکلنے والی خواتین ہیں اور ان کا انداز ہے۔ بلا تفریق مرد و زن، مذہب اور تہذیب و تمدن ہر معاشرے میں اچھے اور برے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ ان کا تناسب معاشرے کے اجتماعی رویہ کی وجہ سے کم یا زیادہ ہو سکتا ہے مگر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کے کسی معاشرے میں فلاں طبقہ، فلاں صنف، فلاں مذہب کے تمام لوگ اچھے یا برے ہیں۔
ریلی پر نکلنے والی خواتین پڑھی لکھی معلوم ہوتی ہیں۔ ان کا موقف اس حد تک درست بھی ہے کہ خواتین کا استحصال اب رک جانا چاہئے مگر ان کی تعلیم کا اثر ان کی ریلی میں بھی ہوتا تو یقینا ایک بڑی تعداد جو آج ان پر نکتہ چینی کر رہی ہے ان کے ساتھ کھڑے ہو کر لبیک کہتی۔ ان کے انداز میں ایک چبھن تھی۔ ایک ایسی چبھن جو اس عورت کو محسوس ہوئی جو اپنی مرضی سے گھر داری کرنا چاہتی ہے اور آپ اسے گلی سڑی لاش کہہ کر مخاطب کرتی ہیں۔
بانو قدسیہ کی مثال ہی سامنے رکھ لیں۔ وہ ایک موثر لکھاری تھیں۔ ان کا فلسفہ ایک بلند سطح پر نظر آتا ہے جسے میں احاطہ تحریر میں لانے سے قاصر ہوں مگر بانو قدسیہ نے کاروباری دنیا کے مقابلے میں چار دیواری کا انتخاب کیا۔ سر پر دوپٹہ اوڑھنے سے ان کے ہنر پر کوئی پردہ نہیں پڑا۔ مشرقی انداز و اطوار اپنانے سے ان کی قدر و منزلت میں کوئی کمی نہیں آئی۔
میری حیرانی میں مزید اضافہ اس وقت ہوتا ہے جب میں پڑھتا ہوں کہ “اپنا کھانا خود گرم کر لو”۔ یہ بینر ایسی خواتین نے اٹھا رکھے ہیں جن کی خدمت میں ہر وقت خادمائیں /ملازمائیں موجود رہتی ہیں۔ سودا سلف لانے کے لئے خادمہ کے بیٹے اور بیٹیاں بھی دستیاب ہیں۔ بیگم صاحبہ کے لئے یہ بنا دو، ان کے بیٹے کے لئے فلاں چیز لاا دو۔ اور بیگم صاحبہ کی اترن مل جائے تو الحمد اللہ وگرنہ کبھی پیسے ضرورت ہوں تو جھڑکیاں۔ ایسی خواتین بھلا کسی مطلب کے بغیر کسی کو کھانا گرم کر کے دے سکتی ہیں؟ آپ کے گھر میں کام کرنے والی بھی ایک عورت ہے۔ کبھی سوچ لیں کہ شاید وہ تھک گئی ہے اور اپنا کھانا خود گرم کر لیں۔
بات خواتین کے حقوق کی ہو رہی ہے یا اشرافیہ کی خواتین کے حقوق کی؟ ہمارے معاشرے میں عام خواتین کو جن مشکلات کا سامنا ہے ان کا تصور بھی ریلی والی خواتین کے لئے محال ہے۔ روزانہ سوزوکی اور لوکل ٹرانسپورٹ کے دھکے کھا کر جس طرح مزدور خواتین کام پر جاتی ہیں وہ اے سی میں ڈرائیور کے ساتھ جانے والی خاتون کیا جانے؟ برگر کھانے والی لڑکی اس بات پر بھڑک جاتی ہے کے اس کی والدہ نے اتنا بھی کیوں پوچھا کہ اسے کتنے پیسے چاہئے؟ کیا انہیں اعتماد نہیں ہے اپنی لڑکی پر؟ بلینک چیک کیوں نہیں دے دیتی؟ جبکہ شہر کی عام لڑکی نے اگر صبح پڑھنے جانا ہے تو شام کو کپڑے سلائی کر کے یا بچوں کو پڑھا کر اپنی فیس کے پیسے بھی جمع کرنے ہیں۔ دیہات کی ٰعام خواتین کو تو یہ سہولت بھی میسر نہیں۔ خدارا بات کرنی ہے تو ٰعام خاتون کی بات کریں۔ کوئی حق چاہئے تو عام خاتون کو چاہئے۔ کسی کی داد رسی کرنی ہے تو عام خاتون کی کیجئے۔ میڈیا کوریج حاصل کر کے مقبول ہونے والوں کا نام کل کوئی بھی نہیں جانے گا مگر پروین سعید جیسی خواتین کے نقش قدم پر چلنے سے ہر کوئی فخر محسوس کرے گا/گی۔

میری پریشانی کا سبب یہ معاشرہ ہے اور اس معاشرے میں مرد کا کردار ہے۔ جیسی ہی کچھ خواتین آواز اٹھاتی ہیں تو اسلام کے نام کی تلوار لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ہر طرف سے فتووں کے انبار لگ جاتے ہیں اور رہی سہی کسر گالم گلوچ سے پوری کی جاتی ہے۔ اسلامی احکام سنانے والوں سے گزارش ہے کہ اسلامی ریاست کا عملی نمونہ بھی پیش کریں۔ کیونکر آئے روز اس معاشرے میں خواتین کا استحصال ہوتا ہے؟ آخر کیونکر اس معاشرے میں لڑکیا ں اغوا ہوتی ہیں؟ کیونکر دشمن عناصر کو موقع ملتا ہے کہ وہ تیزاب کے واقعات کو اپنے میڈیا کی زینت بناتے ہیں؟ کیونکر زیادتی کے واقعات میں کمی نہیں آتی؟
اسلامی معاشرہ تو ایسا ہو کہ اگر ایک عورت سلطنت کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک تنہا چلے تو اسے کوئی خطرہ نہ ہو۔ کیا واقعی ایسا معاشرہ ہے؟ اگر کوئی لڑکی سائیکل چلا رہی ہے تو ااسے گھورنے کا حق آپ کو کس نے دیا؟ اگر کوئی خاتون ہراساں کئے جانے کے واقعے پر سوال اٹھاتی ہے تو بجائے ملزم کا احتساب کرنے کے اسی خاتون کی کردار کشی کیونکر ہو رہی ہے؟ اگر کوئی خاتون جیز پہن کر باہر نکلتی ہے تو آپ کو زیادتی کرنے کا اختیار کس نے دیا؟
مجھے پریشانی ہے ایسی مردانگی سے جو عورت کو زیر کئے بغیر ثابت نہیں ہوتی۔ ہمارے معاشرے نے ایسے مرد پیدا کئے ہیں جو گالم گلوچ کر سکتے ہیں مگر اپنی نگاہوں کی حفاظت نہیں کر سکتے۔ لمحہ فکریہ تو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں مرد کے جرم کے جواز میں عورت کی کردار کشی معمول بنتی جا رہی ہے۔ ان سب برائیوں کے بعد جب کچھ خواتین آواز اٹھاتی ہیں تو بجائے معاشرے کی اصلاح کرنے کے انہی خواتین پر تیر اندازی کی جاتی ہے۔
میری ذاتی رائے صرف یہ ہے کہ اگر ہم ایک اسلامی معاشرے کا نمونہ پیش کریں تو ہماری خواتین بلا خوف و خطر روز مرہ کے امور سر انجام دینے کے قابل ہوں گی۔ پھر کوئی اس طرح کے بینر اٹھا کر بنیادی حقوق طلب نہیں کرے گا اور نہ ہی معاشرے کی بے راہ روی پر طمانچہ پڑے گا۔ ہمارے خواتین کو کوئی گلی سڑی لاش نہیں کہے گا۔

پہلا حصہ: میرا جسم میری مرضی

پہلا حصہ: میرا جسم میری مرضی

سیاق و سباق:
ابھی کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ اسلام آباد کی سڑکوں پر کچھ خواتین نکلتی ہیں۔ خواتین کے ہاتھوں میں بینر اور چارٹ ہیں جن پر مختلف کلمات درج ہیں۔ جیسا کہ “اپنا کھانا خود گرم کر لو”، “میرا جسم میری مرضی” اور “یہ چار دیواری، یہ چادر گلی سڑی لاش کو مبارک”۔

تمہید:
بظاہر اس ریلی کا مقصد معاشرے میں خواتین کے حقوق کے آگہی پیدا کرنا تھا مگر اس کے منظر عام پر آنے کے ساتھ ہی عوام کی طرف سے غم و غصہ کا اظہار ہونے لگا۔ ہمارے معاشرے کی ایک بڑی تعداد نے گالم گلوچ، مغربی تہذیب کے اثرات پر تبصرے اور خواتین کے حدود سے تجاوز کرنے پر لعن طعن سے جواب دیا۔ جب تمام تر تیر اندازی کا ہدف وہ خواتین بن گئیں تو کسی نے یہ سوچنا گوارہ ہی نہ کیا کہ وہ کہنا کیا چاہتی ہیں؟ ان جملوں کا مطلب کیا ہے؟ یہ جملے لکھنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟
مزید کچھ لکھنے سے پہلے اپنا موقف واضح کر دوں کہ ان خواتین کا طریقہ کار نا مناسب تھا جس پر بحث کی جا سکتی ہے۔ اختلاف رائے کا مقصد معاشرے کی اصلاح ہونا چاہئے نہ کہ اپنے معاشرے کو تضحیک کا نشانہ بنانا اور شہرت حاصل کرنا۔ میرے قلم کا مقصد یہ بھی نہیں کہ میں ان کلمات کو جواز فراہم کرنا چاہتا ہوں۔ میرا مقصد صرف ایک آئینہ فراہم کرنا ہے۔ اگر اس آئینے کو دیکھ کر کوئی بے چینی محسوس ہو یقینااس معاشرے کو بدلنے کی ضرورت ہے نہ کہ احتجاج کرنے والوں پر گالم گلوچ کرنے کی۔

پہلی لڑکی:
شادی کے بعد میں اپنی نعت خواں سہیلی سے ملنے گئی تو اس نے اپنی کلائیوں پر پٹی باندھی تھی۔ قمیض ایسی پہنی تھی کہ کلائیاں نظر نہ آئیں۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہوا ہے تو وہ بتانے سے کترانے لگی۔ میری سہیلی مجھ سے ہی بات چھپانے لگی تھی اور میرا اصرار بڑھنے لگا۔ وہ خاموش ہو گئی۔ شاید اسے معلوم نہیں تھا کہ بات کا آغاز کہاں سے کرے۔ آخر اس کی خاموشی کا تسلسل ٹوٹا اور وہ بتانے لگی۔
شادی کی رات ہر لڑکی کی آنکھ میں سنہرے سپنے جگمگاتے ہیں۔ میرے سپنے اس وقت جکنا چور ہوئے جب وہ شراب پی کر کمرے میں داخل ہوا۔ میں جو کسی خوشبو کے جھونکے کا انتظار کر رہی تھی وہ بدبو دار ہوا سونگھ کر چکرا گئی۔ اس کے بعد اس نے میرے ساتھ جنسی زیادتی کی جس میں میری کلائی میں کانچ کی چوڑیاں احتجاجا ٹوٹتی چلی گئیں۔ میری کلائیوں میں بھی کانچ کے ٹکڑے پیوست ہوئے۔ جیسے جیسے میں اذیت میں تڑپتی جاتی اسے سرور ملتا۔ شاید اس کی مردانگی کے معیار بستر تک ہی تھا۔ جس وقت میں اپنے جسم پر خراشیں گنتے ہوئے سسک رہی تھی وہ اپنی مردانگی کا ثبوت پیش کر کے خواب خرگوش میں سو رہا تھا۔

دوسری لڑکی:
کاش میرے والد حیات ہوتے۔ وہ زندہ ہوتے تو شاید میری شادی ایسے حالات میں نہ ہوتی۔ میں نہیں جانتی وہ کون ہے۔ کیا کرتا ہے۔ مجھے بس بھیا نے بتا دیا کہ میری نسبت طے ہو گئی ہے۔ ہاں تصویر بھی دکھائی تھی۔ کچھ دنوں بعد اپنی بہنوں کے وساطت سے اس لڑکے نے مجھ سے رابطہ کیا۔ کہنے لگا میں تم سے شادی اپنی والدہ کی مرضی سے کر رہا ہوں مگر میں اپنی پسند کی شادی بھی کروں گا۔ میں نے کہا کہ اگر ایسی کوئی مجبوری ہے تو مجھے بتا دیں۔ آپ انکار کر دیں یا میں منع کر دیتی ہوں۔ اس نے تو انکار نہیں کیا بلکہ وہ تو بضد تھا جیسے کہ اس نے مجھ سے ہی شادی کرنی ہے۔ میں نے والدہ کے ذریعے بھائی کو یہ بات بتائی اور انکار کر دیا۔ میری کیا جرات کہ میں انکار کروں۔ بھائی کے تھپڑ نے مجھے میری اوقات یاد کروا دی۔
بابا نے کچھ زمین ہم بہنوں کے نام رکھ چھوڑی تھی۔ بھائیوں کا اصرار تھا کہ ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں۔ تمہاری شادی ہم کروا رہے ہیں اس لئے وہ زمین ہمیں لکھ دو۔ کافی کوشش کی یہ معاملہ کہیں بھول بھلیا میں کھو جائے۔ مگر ایسا نہ ہوا۔ ایک طرف زندگی تھی اور ایک طرف زمین۔ بابا نے کچھ بھی سوچ کر وہ زمین ہمارے نام کی ہو مگر وہ سوچ منوں مٹی تلے جا سوئی تھی۔

تیسری لڑکی:
میٹرک کر لی ہے اب آگے پڑھ کر کیا کرنا ہے۔ مجھے پتہ ہے کالج میں لڑکیاں فیشن اور بے غیرتی سیکھنے جاتی ہیں۔ پڑھ لکھ کر کون سا تیر مار لینا ہے۔ یہ سب باتیں سنانے کے بعد میرا چار دیواری سے نکلنا بند کر دیا گیا تھا۔ میں اب جوان ہو گئی ہوں اور مجھے گھر کے اندر ہی رہنا ہے۔ کوئی اچھا رشتہ دیکھ کر میری شادی کر دینی ہے۔نہ بھائیوں نے حمایت کی نہ اماں کچھ بولی۔
پتہ نہیں کس مٹی کی بنی ہوں مگر ہوں ذرا ڈھیٹ۔ اتنی سے عزت افزائی تو معمول کی بات ہے۔ کسی سہیلی کے ذریعے پرائیوٹ انٹر میڈیٹ کا داخلہ کروایا۔ بچوں کو ٹیوشن پڑھا کر جو چار پیسے بچتے وہ اپنی کتابیں اور پڑھائی کا سامان لے آتی۔ گھر کے کام کاج کے بعد دو منٹ ملتے تو پڑھائی بھی کر لیتی۔ اردو تو سمجھ آ جاتی مگر انگلش کون پڑھائے۔ کچھ سمجھ نہیں آتی۔ نمبر تو کم ہی ہیں مگر جیسے تیسے کر کہ انٹر میڈیٹ کر لیا۔
بی اے کا داخلہ بھجوا دیا اور کتابیں بھی خرید لی۔ نہ جانے خدا کو کیا منظور تھا۔ انہی دنوں میرے ناک سے خون آنے لگا۔ نکسیر سمجھ کر زیادہ توجہ نہیں دی۔ مزید کچھ دنوں تک سینے میں درد بھی ہونے لگا۔ ایک دن خالہ نے دیکھ لیا تو ڈاکٹر کے پاس لے گئی۔ ڈاکٹر نے کچھ ٹیسٹ بتائے۔ کچھ پیسوں کا بندوبست تو خالہ نے خود سے کر لیا اور جو مزید چا ہئے تھے اس کے لئے میرے بھائی کو فون کر دیا۔
میرا بیمار ہونا تو بس ایک بہانہ تھا۔ میری پڑھائی اپنے جمع کئے ہوئے پیسوں سے جاری تھی۔ اس موقع پر ایک طرف بھائیوں کو میری پڑھائی والی فضول خرچی ستانے لگی اور دوسری طرف میری بیماری کو لڑکیوں کا ڈرامہ کہہ کر ہنسی میں اڑا دیا۔ میری پرائیوٹ پڑھائی پر پابندی کے ساتھ میرے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے لئے میرا شادی طے کر دی۔

حرف آخر:
لکھنے کو بہت کچھ ہے، ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں خواتین کا استحصال کرنے کے باوجود ہمارے معاشرے کے مرد بضد ہیں۔ ان کا فلسفہ بہت آسان ہے کہ اپنی مردانگی کے ثبوت کے طور پر اپنے ارد گرد کی خواتین کو دبا کر رکھا جائے۔ یہاں عورت کے کردار کو سراہنے کے بجائے ان کی کردار کشی کرنا اپنا فرض سمجھا جاتا ہے۔ عورت کو جواز فراہم کرنے کا موقع بھی دینا گوارا نہیں کیا جاتا۔ آپ نے کتنی دفعہ کچن میں جا کر اپنی والدہ یا بہن کا ہاتھ بٹایا ہے؟ بیوی اور بہن کو چھوڑیں ایک طرف، کبھی اٹھ کر اپنی والدہ کو پانی پیش کیا ہے؟ ان کی رائے کو احترام کی نظر سے دیکھا ہے؟ کس جنت اور کس اسلام کی بات کرتے ہیں۔ اسلام تو یہ کہتا ہے کہ تم میں سے بہتریں شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے بہتر ہے۔
میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اگر سب بیٹے، بھائی، شوہر اور باپ اپنے گھر کی خواتین کو عزت اور محبت دیں تو کوئی لڑکی اپنی چار دیواری کی جنت چھوڑ کر سڑکوں پر نہیں آئے گی۔