نوٹ: یہاں کچھ وجوہات کی بنا پر میں استانی کا اصل نام نہیں لکھ رہا۔

قلم کی پرواز دکان سے شروع ہوئی اور اڑتا ہوا سڑک کے بیچ میں جا لگا۔ جو بچہ قلم لے کر آیا تھا وہ سہم کر دو قدم پیچھے ہٹ گیا۔ غصہ سے بزرگ کی نسیں پھولنے لگیں اور چنگھاڑتی ہوئی آواز میں بچے کو خبردار کیا کہ آئندہ شمسہ کا قلم لانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بچے نے قلم اٹھایا اور وہاں سے بھاگ گیا۔
سڑک کے ایک طرف دوکانیں تھیں اور دوسری طرف رہائشی گھر تھے۔ انہیں گھروں میں سے ایک کھڑکی میں ہلکی سی درز تھی جس میں سے نوجوان لڑکی جھانک کر باہر کا منظر دیکھ رہی تھی۔ لڑکی کی نظریں اس بچے کے تعاقب میں تھی جو ابھی ابھی اس کے گھر سے نکلا تھا اور سڑک کے پار ایک دوکان میں داخل ہو گیا۔ لڑکی کو کچھ سمجھ نہ آئی کے دکان میں پہلے سے موجود بزرگ اور بچے کے درمیان کیا گفتگو ہو رہی ہے۔
آڑتے ہوئے قلم اور بزرگ کے انداز میں جھلاہٹ سے لڑکی نے یہی اندازہ لگایا کہ بزرگ نے پوچھا ہو گا کہ یہ قلم کس کا ہے اور بچے نے کہا ہو گا شمسہ باجی کا۔ شمسہ باجی کا قلم سنتے ہی بزرگ کا غصہ عروج پر پہنچ گیا اور قلم کو خاک چٹوادی۔ شمسہ کو پڑھنے کی اجازت نہیں تھی ۔ اس کے ابا یہی سوچتے تھے کہ بھلا یہ لڑکی پڑھ کر کیا کرے گی۔ لڑکیوں کو پڑھنا نہیں چاہئے بلکہ گھر داری سیکھنے چاہئے۔
شمسہ نے کھڑکی کو مکمل بند کیا۔ کھڑکی بند کرتے ہی جیسے اس کا دل بھی کسی پنجرے میں قید ہو گیا ہو۔ ایک لمحے کے لئے اسے اپنا وجود لاغر نظر آنے لگا۔ جیسے اس کی ٹانگیں اپنے ہی وجود کا بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیں گی۔ شمسہ دیوار کے سہارے کھڑی ہو گئی اور سارے واقعے کا احاطہ کرنے لگی۔ جب شمسہ کا دل گھبرانے لگا اور سوچیں طویل ہونے لگیں تو آنسو غلبہ پانے لگے۔ اگلے ہی لمحے میں ایک معصوم سے قطرہ شمسہ کے گالوں پر سرکنے لگا۔ یہ فیصلے کا وقت تھا۔
شمسہ نے بے دردی سے اپنے آنسو کو پونچھا اور ہار نہ ماننے کا اٹل فیصلہ کیا۔ شمسہ نے ہار اس وقت بھی نہیں مانی جب اس کے پاس کتاب نہیں تھی اور سکول میں نئی آنے والی استانی سے اسے سبق پڑھنے کو کہا۔ شمسہ نے جھٹ سے ساتھ والی لڑکی سے کتاب پکڑی اور آج کا سبق نکالنے لگی۔ یہ سب کچھ استانی دیکھ رہی تھی۔ طالبات کی طرف سے ایسی بے قاعدگی نا قابل برداشت تھی۔ استانی نے ایک زناٹے دار تھپڑ شمسہ کےگال پر جڑ دیا۔ یہ سزا تھی کتاب ساتھ نہ لانے کی۔
وہ لڑکی جو ایک کتاب نہیں خرید سکتی تھی۔ وہ لڑکی جس کے قلم میں دوات کی سیاہی کے ساتھ والد کا غصہ شامل تھا۔ اس جیسی بے شمار مشکلات کے باوجود انہوں نے امتیازی نمبروں سے امتحان میں کامیابی حاصل کی۔ سزا دینے کے بعد استانی کو شمسہ کے حالات کا علم ہوا تو دوبارہ سزا نہیں دی۔
محترمہ شمسہ جب یہ واقعات سنا رہی تھیں تو میں سامنے طالب علم کی حیثیت سے بیٹھا تھا اور جنابہ ایک معتبر اسکول میں استانی کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دے رہی تھیں۔ میں نے ان جیسی شفیق اور مہربان استانی نہیں دیکھی۔ آج بھی جب ان کا چہرہ خیالوں میں دیکھتا ہوں تو مامتا کی محبت نظر آتی ہے۔ ان کے طلبا و طالبات کے لئے ریاضی کے علاوہ عام زندگی میں بھی ان کا کردار مشعل راہ ہے۔

%d bloggers like this: