سائنسی پیمانے اور چاند کی پہلی تاریخ

اور سورج ہمیشہ اپنی مقررہ منزل کے لئے (بغیر رکے) چلتا رہتا، ہے یہ بڑے غالب بہت علم والے (رب) کی تقدیر ہے۔ . اور ہم نے چاند کی (حرکت و گردش کی) بھی منزلیں مقرر کر رکھی ہیں یہاں تک کہ (اس کا اہلِ زمین کو دکھائی دینا گھٹتے گھٹتے) کھجور کی پرانی ٹہنی کی طرح ہوجاتا ہے۔ . نہ سورج کی یہ مجال کہ وہ (اپنا مدار چھوڑ کر) چاند کو جا پکڑے اور نہ رات ہی دن سے پہلے نمودار ہوسکتی ہے، اور سب (ستارے اور سیارے) اپنے (اپنے) مدار میں حرکت پذیر ہیں

کتنے حسیں افق سے ہویدا ہوئی ہے تو

اجرام فلکی کی اس گردش کا ایک تعلق قدیم رسم و رواج اور مذاہب کے ساتھ بھی ہے اور موجودہ دور کے وقت کے پیمانہ کے ساتھ بھی ہے۔ جیسے 24 گھنٹے کا ایک دن، زمین کے اپنے مدار کے گرد چکر لگانے سے اخذ کیا جا سکتا ہے۔ 365 دن، 12 مہینے اور ایک سال سے زمین کے سورچ کے گرد ایک چکر مکمل کرنے کا پیمانہ ہے۔

منگلہ بند – دنیا کا ساتواں بڑا آبی ذخیرہ

منگلہ بند کی بنیاد ساٹھ کی دہائی میں رکھی گئی جبکہ یہ بند ۱۹۶۷ سے فعال ہے۔ یہ دنیا کا ساتواں بڑا بند ہے اور پانی کے ذخائر کے لحاظ سے ۲۰۰۳ سے پاکستان کا سب سے بڑا بند ہے۔ اس میں ۱۰ ٹربائن ہیں جن میں سے دو مرمتی مراحل میں ہیں۔ ہر ایک ٹربائن ۱۰۰ میگا واٹ بجلی پیدا کرتا ہے۔ ۱۵ فیصد اضافی بوجھ کے ساتھ منگلہ ڈیم ۱۱۵۰ میگا واٹ بجلی قومی دھارے میں شامل کرتا ہے۔

May peace prosper in Pakistan

اسلام کے چوکیدار

جوحق سے کرے دور ،وہ تدبیربھی فتنہ
اولاد بھی، اجداد بھی، جاگیر بھی فتنہ
ناحق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر ہی کیا نعرہ تکبیر بھی فتنہ
شاعر: سرفراز بزمی فلاحی

Ride the Tide

Ride the Tide

As the name suggest, Ride the Tide is to embrace change in technology and adapt with environment. Success is not for one day or one moment that will remain your servant for rest of the life. It is a continuous struggle with ups and downs and changes in environment.

a teacher to remember

بلا عنوان

قلم کی پرواز دکان سے شروع ہوئی اور اڑتا ہوا سڑک کے بیچ میں جا لگا۔ جو بچہ قلم لے کر آیا تھا وہ سہم کر دو قدم پیچھے ہٹ گیا۔ غصہ سے بزرگ کی نسیں پھولنے لگیں اور چنگھاڑتی ہوئی آواز میں بچے کو خبردار کیا کہ آئندہ شمسہ کا قلم لانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بچے نے قلم اٹھایا اور وہاں سے بھاگ گیا۔

کھانا خود گرم کر لو

آخری حصہ: خود کھانا گرم کر لو

حوا کی بیٹی کا جو سلسلہ شروع کیا تھا اس کی آخری کڑی ” خود کھانا گرم کر لو” کے عنوان کے ساتھ اس سلسلے کو آگے بڑھانے سے پہلے ایک چھوٹی سی کہانی پیش کرتا ہوں۔ یہ کہانی میرا قیاس ہے اور ہو سکتا ہے ہر بحرف سچ یا جھوٹ ہو مگر اس کہانی کے سہارے میں اپنی بات آگے بڑھا سکوں گا۔

گلی سڑی لاش

دوسرا حصہ: گلی سڑی لاش

میں حیران بھی ہوں اور پریشان بھی۔ حیران اور پریشان ہونے کی وجہ پر جانے سے پہلے اگر آپ اس سلسلے کی پہلی کڑی پڑھنا چاہتے ہیں تو اس لنک پر دیکھیں۔ کچھ حقیقی واقعات کو کہانی کے انداز میں Read more…